ایک سینئر ایرانی قانون ساز نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام میں امریکہ کی کسی بھی شمولیت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی مانا جائے گا، انہوں نے اس آبی گزرگاہ میں واشنگٹن کے مجوزہ کردار کو مسترد کر دیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا:"آبنائے ہرمز کے نئے بحری نظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔"
ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں انہوں نے اس خیال کو مسترد کیا کہ یہ آبی گزرگاہ واشنگٹن کے زیرِ انتظام ہو سکتی ہے، اور کہا کہ ہرمز اور خلیجِ فارس کا نظام امریکی صدر کی چوکیوں کے ذریعے نہیں چلایا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا: کوئی بھی الزام تراشی کے منظرناموں پر یقین نہیں کرے گا!
یہ بیان، ٹرمپ کے اتوار کو جاری کردہ اعلان کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے عمل کی رہنمائی کرے گا۔
ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے اس اقدام کو 'انسانی ہمدردی کا اظہار' قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد وہ غیرجانبدار ممالک ہیں جو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ میں ملوث نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ : ایران، مشرقِ وسطیٰ اور امریکہ کے مفاد میں، ہم نے ان ممالک کو بتایا ہے کہ ہم ان کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے نکال دیں گے۔
دفاعی مشن
دریں اثنا، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا کہ اس کے دستے 4 مئی سے پروجیکٹ فریڈم سے تعاون کا آغاز کریں گے تاکہ آبنائے ِ ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کی آزادی بحال کی جا سکے۔
دنیا کی سمندری تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی حصہ اور ایندھن و کھاد کی بڑی مقدار اسی راستے سے منتقل ہوتی ہیں۔
سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ا'س دفاعی مشن کے لیے ہمارا تعاون علاقائی سکیورٹی اور عالمی معیشت کے لیے ضروری ہے ۔
پروجیکٹ فریڈم کے لیے امریکی فوجی تعاون میں گائیڈڈ میزائل ڈیسٹرائرز، سمندری اور زمینی چھان بین سمیت 100 سے زائد طیارے، کثیرالمیدانی بغیر عملے کے پلیٹ فارمز، اور 15,000 سروس ممبران شامل ہوں گے۔
















