لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی کو یقینی بنانا ایک قومی ترجیح ہے۔
عون نے پیر کو لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (NNA) کے ذریعے جاری بیان میں کہا، "اسرائیلی فوج کی مکمل واپسی کا راستہ ایک ثابت قدم قومی مطالبہ ہے، جسے لبنان کی ریاست مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔"
عون نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات "کوئی سمجھوتہ یا سرِ تسلیم خم کرنے کا عمل نہیں ہوں گے"بلکہ یہ لبنان کی کوشش ہیں کہ وہ ملک کی فوجی اور سکیورٹی اداروں کے ذریعے اپنی سرزمین کے تحفظ کے اپنے خودمختار حق کا اظہار کرے۔
یہ بیانات اسی وقت سامنے آئے جب لبنان نے طاقت و آزادی کا دن منایا، جو 22 سال کے قبضے کے بعد سنہ2000 میں جنوبی لبنان سے اسرائیل کے انخلاء کی یاد دلاتا ہے۔
جاری جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
بیروت اور تل ابیب نے اپریل کے وسط سے امریکہ کی ثالثی میں براہِ راست تین دورِ مذاکرات کیے ہیں تاکہ ایک دیرپا امن بندوبست قائم کیا جا سکے۔
17اپریل کو نافذ ہونے والی جنگ بندی، جو بعد ازاں جولائی کے اوائل تک بڑھا دی گئی تھی، کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہیں۔
لبنانی حکام کے مطابق، 2 مارچ سے جاری تنازعے کے دوران، جس میں اسرائیل اور حزب اللہ ملوث ہیں، لبنان میں اسرائیلی بمباری سے تین ہزار ایک سو سے زائد افراد ہلاک، نو ہزار پانچ سو سے زائد زخمی اور تقریباً 16 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔








