میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے تائیوان کو 14 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت عارضی طور پر روک رہا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں سینیٹ کی ایپروپریشنز ڈیفنس سب کمیٹی کی سماعت کے دوران گفتگو کرتے ہوئے قائم مقام نیوی سیکرٹری ہنگ کاؤ نے اپنے اس فیصلے کی وضاحت کی۔
انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ امریکی فوج کے پاس اب بھی کافی مقدار میں میزائل اور انٹرسیپٹرز موجود ہیں، جبکہ دوسری طرف گولہ بارود کے گرتے ہوئے ذخائر کی رپورٹس پر جانچ پڑتال بڑھ رہی ہے۔
ہنگ کاؤ نے کمیٹی کے اراکین کو بتایا، "اس وقت، ہم یہ عارضی وقفہ اس لیے کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہمارے پاس 'ایپک فیوری' کے لیے درکار گولہ بارود موجود ہو، جو کہ ہمارے پاس کافی مقدار میں ہے ہم صرف یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہو لیکن جیسے ہی انتظامیہ ضروری سمجھے گی، غیر ملکی فوجی فروخت (ہتھیاروں کی سپلائی) دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔"
کاؤ نے کہا کہ ہتھیاروں کی فروخت کی حتمی منظوری کا فیصلہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو پر منحصر ہوگا۔
تاہم، ان کے یہ بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس وقفے کی بتائی گئی وجہ سے متصادم نظر آتے ہیں جس میں ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ چین کے ساتھ ایک "مذاکراتی پتے" کے طور پر تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت روک سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ میں نے ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہےمیں یہ کر بھی سکتا ہوں اور نہیں بھی کر سکتا۔"
صدر نے چین کے دورے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اس موضوع پر "بہت تفصیل سے" گفتگو کی ہے اور مزید کہا کہ وہ "اگلے چند دنوں کے اندر کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔"
میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ دہائیوں سے "چھ یقین دہانیوں پر عمل پیرا ہےجو کہ 1982 میں صدر رونالڈ ریگن کی انتظامیہ کے دوران نافذ کی گئی تھیں اور امریکہ-تائیوان تعلقات کی رہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں سے دوسری یقین دہانی یہ واضح کرتی ہے کہ امریکہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر چین سے مشاورت نہیں کرے گا۔
ہنگ کاؤ کی ان یقین دہانیوں کے باوجود کہ امریکہ کے پاس کافی گولہ بارود ہے، رپورٹس بتاتی ہیں کہ 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے امریکی فوج نے ہزاروں میزائل استعمال کر ڈالے ہیں۔ اس دوران پینٹاگون کے ذخیرے میں موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹیلتھ کروز میزائلوں کا تقریباً آدھا حصہ استعمال ہو چکا ہے اور ٹام ہاک کروز میزائل، پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل، پریسجن اسٹرائیک میزائل اور زمین سے مار کرنے والے ATACMS میزائلوں کے ذخائر میں شدید کمی آئی ہے۔
وائٹ ہاؤس ایران جنگ کے لیے کانگریس سے اضافی فنڈنگ کے طور پر 80 بلین سے 100 بلین ڈالر مانگنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ ان مہنگے اور جدید ترین ہتھیاروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوگا جو جنگ کے دوران ختم ہو چکے ہیں۔
واحد ریلیف یہ ہے کہ اپریل سے یہ جنگ ایک تناؤ سے بھرپور جنگ بندی میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے گولہ بارود کا استعمال نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
وزیر دفاع ہیگستھ نے ذخائر کی کمی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے میڈیا اور کچھ قانون سازوں پر اس معاملے کو حد سے زیادہ اچھالنے کا الزام لگایا ہے۔
انہوں نے گزشتہ ہفتے قانون سازوں کو بتایا، "سب سے پہلے تو، گولہ بارود کا مسئلہ نادانی اور غیر مددگار طریقے سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے۔ ہمارے پاس اپنی ضرورت کے مطابق وافر مقدار موجود ہے۔"
ایران جنگ کے دوران، تائیوان نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ چین کی ممکنہ فوجی جارحیت کو روکنے کے لیے ہتھیاروں کی فروخت کا سلسلہ جاری رکھے۔
امریکہ میں تائیوان کے نمائندے الیگزینڈر یوئی نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ہم کسی جنگ کو ہونے سے روکنا چاہتے ہیں، تو میرے خیال میں یہ سب سے بہتر ہوگا کہ تائیوان مضبوط ہو، اپنا دفاع کرنے کے قابل ہو، اور اس لیے ہمیں ایک مضبوط دفاع کے لیے ان ہتھیاروں کو خریدنے کی اجازت ہونی چاہیے جن کی ہمیں ضرورت ہے۔
















