نیٹوکے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے جمعہ کو کہا کہ اتحاد ایک مضبوط راستے پر ہے اور بتدریج ایک ہی اتحادی پر انحصار کو کم کر رہا ہے۔
سویڈن میں نیٹو کے وزرائے خارجہ ایک سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔
روٹے نے ملاقات سے قبل صحافیوں سے کہا کہ"ہم جس راہ پر گامزن ہیں، وہ ایک مضبوط یورپ اور ایک مضبوط نیٹو ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہم وقت کے ساتھ، قدم بہ قدم، صرف ایک ہی اتحادی پر اتنا انحصار نہیں کریں گے جتنا ہم طویل عرصے تک کرتے رہے ہیں۔"
روٹے نے کہا کہ یہ تبدیلی امریکہ کو دیگر ترجیحات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے زیادہ گنجائش دے گی ہم یورپی اتحادی دفاعی اخراجات بڑھائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ضروری ہے نہ صرف اس لیے کہ آپ جو خرچ کر رہے ہیں اسے امریکہ کے ساتھ یکساں کیا جا سکے، بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنانے کے لیے کہ اپنے دشمنوں کے خلاف دفاع کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ ہمارے پاس موجود ہو۔"
نیٹو کے سربراہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب یورپی ممالک زیادہ ذمہ داری سنبھالیں گے تو امریکہ یورپ میں جوہری اور روایتی دفاع دونوں میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا"یورپیوں نے جب یورپی اڈوں کا معاملہ ہے تو پیغام سن لیا ہے۔ یہ یورپی ممالک کی امریکہ کے ساتھ دوطرفہ ذمہ داریاں ہیں، تاکہ امریکہ ان دوطرفہ ذمہ داریوں کو دنیا کے دیگر حصوں میں اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر سکے۔"
یہ بات ایسے وقت کہی گئی جب حال ہی میں امریکہ نے کچھ اتحادی ارکان پر ایران کی جنگ کے دوران اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہ دینے پر تنقید کی تھی۔
روٹے نے دوبارہ واضح کیا کہ یورپی اتحادی اپنی فوجی اڈوں تک رسائی کے بارے میں دوطرفہ وعدوں کے تحت وہی کر رہے ہیں جو امریکہ توقع کر سکتا تھا۔
انہوں نے آبنائے ِ ہرمز میں یورپی اتحادیوں کی کوششوں کی بھی طرف اشارہ کیا۔
روٹے نے مزید کہا کہ"آبنائے ہرمز اس وقت بند ہے، اور یہاں جہاز رانی کی آزادانہ نقل و حرکت شدید خطرے میں ہے۔ لہٰذا، یہ بلاشبہ تمام اتحادیوں کا بھی مفاد ہے، شاید نیٹو بطورِ اتحاد کے طور پر نہیں، مگر واضح طور پر جہاں بھی ہم مدد کر سکتے ہیں، ہم موجود ہوں گے۔"













