جمعرات کو جنگ بندی کے لیے جاری سفارت کاری کوششوں میں رخنے کے بعد ایران اور امریکہ دونوں کے موقف میں سختی آ گئی ہے۔
تہران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو سرکاری حیثیت دینے کے لئے اقدامات شروع کر دیئے اور واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران میں زمینی کارروائی کے لیے لڑاکا دستوں کے داخلے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ ایران نے، معمول کے حالات میں تیل اور قدرتی گیس کے تقریباً 20 فیصد کی اس گزرگاہ یعنی 'آبنائے ہرمز' پر عملی شکل میں ایک'ٹول بوتھ نظام' نافذ کر دیا ہے۔ کچھ جہازوں نے گزرنے کے لئے چینی کرنسی یوان میں ٹول ٹیکس ادا کیا ہے۔
دریں اثنا، امفیبیئس اسالٹ شپ USS Tripoli کے زیرِ کمان ایک محارب گروپ مشرقِ وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ محارب گروپ میں تقریباً 2,500 میرینز شامل ہیں اور 82 ویں ایئر بورن کے کم از کم 1,000 پیراٹروپروں کو بھی اس خطے میں پوزیشنیں سنبھالنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تاہم امریکی یونٹوں کی یہ نقل و حرکت امریکی صدر ٹرمپ کے، ایران کو آبنائے ہُرمز کھولنے پر مجبور کرنے یا پھر خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اثاثوں پر حملے بند کروانے کے لئے، طاقت کا استعمال کرنے کا مفہوم نہیں رکھتی۔
ٹرمپ نے ماہِ جنوری میں وینزویلا کےلیڈر کے اغوا سے قبل بحیرہ کریبیئن میں ایک بڑی فوج تعینات کی تھی لیکن موجودہ صورتحال میں امریکہ آبنائے ہرمز کے جوار میں واقع جزیرہ خارگ کے پیٹرول ٹرمینل یا پھر آبنائے کے قریب واقع دیگر تنصیبات کو قبضے میں لینے پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔
اس خطے میں امریکی افواج کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے طے شدہ حملہ شروع کرنے کے بعد سے ان کی قوتوں نے 28 فروری سے اب تک 10,000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کے سب سے بڑے جہازوں کا 92 فیصد اور ملک کی میزائل، ڈرون اور بحری پیداوار کی تنصیبات کا دو تہائی سے زائد حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایک ویڈیو پیغام میں کوپر نے کہا ہے کہ " ابھی ہم نےکام ختم نہیں کیا۔ہم ایران کے وسیع تر فوجی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے راستے پر آگے بڑھ رہےہیں"۔۔









