مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
ایران: ہم خلیج فارس میں بارودی سرنگیں نصب کر سکتے ہیں
اگر امریکہ یا اسرائیل نے ہمارے ساحل یا جزیروں کو نشانہ بنایا تو ہم خلیج فارس میں بحری بارودی سرنگیں نصب کر سکتے ہیں: ایران
ایران: ہم خلیج فارس میں بارودی سرنگیں نصب کر سکتے ہیں
مال بردار بحری جہاز عربی خلیج میں متحدہ عرب امارات میں آبنائے ہرمز کی طرف رواں دواں ہیں، جمعرات، 19 مارچ 2026 کو۔ / AP
23 مارچ 2026

ایران نے پیر کے روز خبردار کیا ہےکہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ہمارے ساحل یا جزیروں کو نشانہ بنایا تو ہم خلیج فارس میں بحری بارودی سرنگیں نصب کر سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو  دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک  بند ہو سکتی ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے شائع  کردہ بیان کے مطابق  ایران قومی دفاعی کونسل نے کہا ہے کہ کوئی بھی حملہ اہم سمندری راستوں اور رسل و رسائل رُوٹوں  میں بارودی سرنگوں کی تنصیب  کا سبب بن  جائے گا۔ اس کاروائی  میں  ساحل سے چھوڑی گئی تیرتی بارودی سرنگوں کا استعمال بھی شامل ہے۔

یہ وارننگ پہلے سے بند آبنائے ہُرمزسے مشابہہ صورتحال پیدا کر سکتی  اور بحری ٹریفک کو ایک طویل عرصے تک بند کر سکتی ہے۔

تہران نے کہا ہے کہ ایسی صورتحال کی ذمہ داری حملہ کرنے والے کسی بھی فریق پر ہوگی اور غیر جارح ممالک صرف ایران کے ساتھ رابطے کے ذریعے ہی محفوظ طور پر ہرمز سے گزر سکیں گے۔

انرجی شاک  کے خدشات میں اضافہ

واضح رہے کہ آبنائےہرمز کے ذریعے یومیہ  تقریباً 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل کی جاتی ہے۔یہ راستہ مارچ کے اوائل سے ہی شدید طور پر متاثر ہے  جس کے باعث  جہاز رانی کے اخراجات  اور عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے بعد توانائی کی ترسیل میں مزید خلل کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔  

تہران خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائیاں کر رہا  اور  اردن، عراق اور دیگر   خلیجی ممالک  میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ خلیج میں بارودی سرنگوں کی تنصیب تناو میں ایک ڈرامائی اضافے کا سبب بن سکتی اور وسیع پیمانے کے اقتصادی جھٹکے  کی اور عالمی منڈیوں کے مزید عدم استحکام کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔