سیاست
4 منٹ پڑھنے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
ایرانی وزیر خارجہ نے سوئٹزرلینڈ میں تازہ سفارتی پیشرفت کی تعریف کی، جس میں لبنان کے لیے ایک نئے آتش بس کے آلیے کی طرف اشارہ کیا، جبکہ ثالث ممالک پاکستان اور قطر اس علاقے کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
ایران اور امریکہ نے اہم مذاکرات میں ’حوصلہ افزا پیش رفت‘ کی ہے، ثالثین کا کہنا ہے۔ / Reuters

مذاکراتی ثالثوں نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ حکام کے درمیان امریکہ اور ایران کے پہلے مرحلے کی بات چیت اختتام پذیر ہو گئی ہے، جس کا آغاز کشیدہ ماحول میں ہوا تھا۔

تہران نے اعلان کیا  تھا کہ اس نےآبنائے  ہرمز  کو دوبارہ بند کر دیاہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیاں دہرائیں۔

قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا  ہے کہ امریکہ اور ایران نے 60 دن کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ قطری دفترِ خارجہ  کے جاری کردہ بیان کے مطابق تکنیکی مذاکرات اس ہفتے میں قطری ملکیت والے سوئس پہاڑی  علاقے برگن اسٹاک میں جاری رہیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے لبنان میں لڑائی ختم کرنے کے ایک میکانزم پر اتفاق کیا  ہے اور متنازعہ ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کے محفوظ گزر کو یقینی بنانے کے لیے ایک رابطہ لائن کھولی گئی ہے ۔

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ان کے ملک نے تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کے لیے استثناہ  حاصل کر لی ہے، کچھ منجمد اثاثے آزاد چھوڑ دیے گئے ہیں  اور ایران کے لیے ایک تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔

جب پوچھ گچھ کی گئی کہ آیا بات چیت فی الحال ختم ہو گئی ہے تو وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ایران کی نیم سرکاری تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق  ایرانیوں کا کہنا ہے کہ جوہری معاملات پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے مفاہمت نامے (MOU) کے دیگر حصوں کی فراہمی ضروری ہے، جن میں منجمد اثاثوں کی رسائی  اور ایرانی تیل کی برآمد کو اجازت دینے والی امریکی  چھوٹ  شامل ہیں۔

ادھر، عراقچی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور قطر کی سہولت کاری میں سوئٹزرلینڈ میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات نے لبنان میں جنگ ختم کرنے اور ایران کی معیشت پر دباؤ کم کرنے کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔

عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر  لکھا  ہے  کہ : " پاکستانی اور قطری ثالثی  سے  لبنان کی جنگ ختم کرنے میں بڑی پیش رفت  حاصل ہوئی  ہے۔ تیل اور پیٹرو کیمیکل کی برآمدات کی چھوٹ کے احکامات  جاری کر دیے گئے ہیں، محاصرے کو ختم کیا گیا، کچھ منجمد اثاثے جاری کیے گئے ہیں اور ایران کے لیے ایک بڑا تعمیر نو ترقیاتی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔"

عراقچی: "پہلا حقیقی امتحان: لبنان ڈی کنفلیکشن سیل۔"

ایک علیحدہ بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے سفارتی پیش رفت کو ایک وسیع قومی جدوجہد کے حصے کے طور پر پیش کیا۔

انہوں نے کہا: "فٹ بال کے میدان سے مذاکراتی میز تک اور میدانِ جنگ تک، بطورِ ایرانی جو بھی قدم ہم اٹھاتے ہیں وہ ایک بڑی جدوجہد کا حصہ ہے: اپنے عزیز عوام کی شان اور احترام  کا دفاع ہے۔"

معاہدے میں ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تمام دشمنیوں کو ختم کرنے کا تقاضہ کیا گیا، بشمول لبنان کے جہاں اسرائیل نے مہلک حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت میں، جہاں امریکی اور ایرانی حکام قطری ثالثوں کی موجودگی میں ملے، وینس نے لبنان میں تشدد کے اثرات کو کم دکھاتے ہوئے کہا کہ وہاں دشمنی ختم کرنے کی طرف پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا: "یہ معاملات ہمیشہ تھوڑے بہت الجھے ہوئے ہوتے ہیں۔"

ادھر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے  کہ اگر ایران اپنے اتحادیوں کو قابو میں نہیں رکھے گا تو وہ ایران پر حملے دوبارہ شروع کر دے گا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: "ایران کو فوراً  اپنی پراکسیز جو لبنان میں ہیں انہیں مشکلات پیدا کرنے سے روکنا چاہیے," بظاہر مراد حزب اللہ تھی۔ "اگر وہ نہیں روکتے تو ہم ایران کو دوبارہ بہت سخت نشانہ بنائیں گے، بالکل ویسا ہی جیسا ہم نے گزشتہ ہفتے کیا، بلکہ  اس سے بھی زیادہ سخت!!!"

جب ٹرمپ ایران کو دھمکی دے رہے تھے، وینس نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر نے "ہمیں ایک نیا باب کھولنے کو کہا ہے تاکہ ہم ایران کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو تبدیل کریں۔"

جمعہ کو لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود وہاں لڑائی کے ختم ہونے کے واضح آثار کم ہی نظر آئے ہیں۔

ایران نے ہفتہ کو کہا کہ اسی نتیجے کے طور پر اس نے آبنائے ہرمز دوبارہ  بند کر دی ہے،  اس کی بندش تقریباً چار ماہ تک جاری رہی اور اس نے عالمی توانائی کی سپلائی میں تاریخ کا سب سے بڑا خلل پیدا کیا تھا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے اتوار کو بتایا کہ مزید اطلاع تک جہازوں کے گزرنے کے نئے اجازت نامے جاری نہیں کیے جا رہے۔

دریافت کیجیے
بُرہانالدین دوران: غزہ کے المیہ  نے ہمارے ذہنوں میں گہرے نقوش چھوڑے ہیں
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
ڈونلڈ ٹرمپ: میں ترکیہ کا دورہ کروں گا
ٹرمپ  نے قطر کی طرف سے تحفے میں دیے گئے بوئنگ 747 کو متعارف کرا دیا
شمال مغربی پاکستان میں سڑک کنارے دھماکوں میں 7 افراد لقمہ اجل
ترکیہ علاقائی بحرانوں کے حل کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے: ایردوان
روس نے یوکرین پر تباہ کن حملے کیے ہیں، کئی جانیں ضائع درجنوں زخمی: کیف
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے محض ایک دن بعد لبنان میں 18 افراد شہید
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
اسرائیل کو لبنان سے 60 دن میں واپس جانا ہوگا:حزب اللہ
" ایران مذکرات "نائب امریکی صدر  نے سویٹزرلینڈ کا دورہ موخر کر دیا
اسرائیل نے غزہ میں ایک فلسطینی بچے کو اس کے والد کی گود میں قتل کر دیا
کیوبا نے معاشی اصلاحات کا اعلان کر دیا
امید ہے امریکہ ہمیں اسلحہ فراہم کر دے گا: تائیوان