صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میری لینڈ کے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں قطر کی طرف سے تحفے میں دیے گئے اپ گریڈ شدہ بوئنگ 747 کا معائنہ کیا، طیارہ ایئر فورس ون بیڑے میں شامل ہونے کے لیے حوالگی کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے جمعہ کو اڈے کے ایک نئے ہینگر میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اسے دنیا کا سب سے زیادہ عالیشان طیارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کو ایسی سطح پر تیار کیا گیا ہے ،جو شاید دوبارہ دیکھنے کو نہ ملے،"
یہ جمبو طیارہ، جو گزشتہ سال قطر کی طرف سے تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، دفاعی ٹھیکیدار ایل تھری ہیریس ٹیکنالوجیز نے از سر نو تیار کیا، اور اس کی آزمائشی پروازیں کی گئیں اور اسے ٹرمپ کے منتخب کردہ سرخ، سفید، گہرا نیلا اور سونے کے رنگوں میں ڈبویا گیا، جو دہائیوں سے ایئر فورس ون میں استعمال ہونے والے روایتی ڈیزائن سے ہٹ کر ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اپ گریڈ بیرونی رہنماؤں کے استعمال کردہ جدید طیاروں کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے ضروری تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ"ان ممالک کا ہمارے لیے بہت احترام ہے، اور پھر بھی ان کے پاس بہت نئے اور بہتر طیارے ہیں۔ یہ تھوڑا سا مضحکہ خیز ہے۔"
ٹرمپ نے کہا کہ ایئر فورس ون بیڑے کے باقی طیاروں پر بھی نیا ڈیزائن بنایا جائیگا۔
ٹرمپ نے جیٹ میں کی گئی تبدیلیوں کی کاریگری کی تعریف کرتے ہوئے کہا "آپ میں سے بہت سے لوگوں کی غیر معمولی محنت کے ساتھ، اس طیارے کو ایک اڑتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں تبدیل کیا گیا ہے، جس کی عیاشی ایسی سطح ہے جو کسی نے پہلے نہیں دیکھی۔"
ٹرمپ کے بیڑے میں اس اضافے سے صدر، ان کے معاونین، سکیورٹی عملہ اور میڈیا کے لیے ایک زیادہ جدید اور عالیشان طیارہ میسر ہوگا جس میں وہ سفر کریں گے۔
اپ گریڈ کی لاگت ظاہر نہیں کی گئی اور اسے اتنی تیزی سے کیا گیا کہ کچھ ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ موجودہ ایئر فورس ون طیاروں کی طرح محفوظ نہیں ہو سکتا۔
ایئر فورس کی تیز رفتار کوشش نے عبوری ورژن جلد فراہم کرنے کے لیے اگلی نسل کے صدارتی جیٹ کے لیے کچھ منصوبہ بند ترمیمات کو چھوڑ دیا، مگر حکام نے کہا کہ یہ صدارتی معیار کے مطابق ہے۔
سیکریٹری آف دی ایئر فورس ٹرائے مینک نے جمعہ کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ"ملک کے قائد کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔"
"شروع سے ہی، ہم نے ہر ضرورت کو باریک بینی سے جانچا تاکہ حوالگی کو تیز کیا جا سکے جبکہ صدارتی مشن سے متوقع اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جائے۔"
4 جولائی: واشنگٹن فلائی اوور
ٹرمپ نے جمعے کو جمع شدہ لوگوں سے کہا کہ یہ طیارہ اس تشکیل کی قیادت کرے گا جسے انہوں نے 'امریکی تاریخ کا سب سے بڑا فلائی اوور' قرار دیا ہے، جو نیشنل مال میں ہونے والی 4 جولائی کی تقریب کے دوران ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا"یہ بہت سے، بہت سے طیاروں کے گروپ کی قیادت کرے گا۔"
ٹرمپ جمعرات کی صبح یورپ سے ایک فوجی معیار کے بوئنگ 747-200 پر واپس آئے، جس نے تیس سے زائد سالوں سے امریکی صدور کی خدمت کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ طیارہ اس کا آخری سفر تھا اور آخرکار اسے ایک میوزیم میں رکھا جائے گا۔
ماہرین نے کہا کہ اس عالیشان طیارے میں تبدیلیاں سکیورٹی اپ گریڈز، رابطے کی بہتریاں تاکہ جاسوسی روکی جا سکے، اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت تھیں۔
قطری جیٹ اس وقت ایک پل کا کام دے رہا ہے جب کہ بوئنگ دو منظور شدہ 747-8 طیارے فراہم کرنے پر کام کر رہی ہے، جو 2018 میں دستخط شدہ $3.9 ارب ڈالر کے طے شدہ کنٹریکٹ کے تحت ہیں۔
یہ پروگرام شیڈول کے مقابلے چار سال پیچھے ہے، اور توقع نہیں کہ ترسیل 2028 کے وسط تک ہوگی — ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ کو جنوری 2029 میں اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے نیا طیارہ میسر نہ ہو۔
بوئنگ پروگرام کے اخراجات 5 ارب ڈالر سے زیادہ تک بڑھ گئے ہیں، جس میں کمپنی نے مذکورہ پروجیکٹ سے متعلق آمدنی کے بر خلاف 2.4 ارب ڈالر کے چارجز پوسٹ کیے ہیں۔
نئی رنگ سکیم روایتی سفید اور دو رنگ نیلے ڈیزائن سے ہٹ کر ہے جو صدر جان ایف۔ کینیڈی کے دورِ حکومت سے چلی آ رہی تھی۔
ایئر فورس نے اس میں وہ عناصر دوبارہ متعارف کروائے جو ٹرمپ پہلے مسترد کر چکے تھے—سرخ، سفید اور نیلے رنگ کا پیلیٹ—لیکن اسے 2022 میں ختم کر دیا گیا تھا۔
سرخ، سفید، گہرا نیلا اور سونے کی نئی رنگ سکیم VC-25B — بوئنگ 747-8 کی فوجی تعیین — اور نائب صدر، کابینہ کے ارکان اور دیگر سینئر حکام کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے چار ترمیم شدہ بوئنگ 757-200 پر بھی لاگو کی جائیگی۔












