مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
ایرانی وفد کی مختلف کوششوں کے باوجود امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی لہٰذا مذاکرات ختم ہو گئے ہیں: آئی آر آئی بی
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مذاکرات ختم ہو گئے کیونکہ امریکہ کے بے جا مطالبات کی وجہ سے کسی فریم ورک پر اتفاق نہ ہو سکا۔ / Reuters
12 گھنٹے قبل

ایران ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن 'آئی آر آئی بی' نے ٹیلی گرام سے جاری کردہ بیان میں کہا  ہےکہ "ایرانی وفد نے ایرانی عوام کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے 21 گھنٹے تک مسلسل اور بھرپور مذاکرات کئے لیکن ایرانی وفد کی مختلف کوششوں کے باوجود امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی۔اس طرح مذاکرات ختم ہو گئے ہیں۔"

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سےجاری کردہ خبر میں کہا ہے  کہ امریکہ مذاکرات کی میز سے اٹھنے کے لیے بہانے تلاش کر رہا تھا۔ پریس ٹی وی نے بھی اطلاع دی ہے کہ امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات نے ایک فریم ورک پر اتفاقِ رائے کو روک دیا اور اسی وجہ سے بات چیت ختم ہوگئی ہے۔

اس سے قبل امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے تہران کو "آخری اور بہترین پیشکش" دینے کے بعد مذاکرات سے دستبردار ہونے کا کہا تھا۔

وینس نے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران سے اس بات کا "دو ٹوک عہد" چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والے اعلیٰ ترین سطحی مذاکرات  کے باوجود "ہم نے یہ نہیں دیکھا۔"

وینس نے کہا ہے کہ منگل کے روز اسرائیل کے ساتھ حملوں میں دو ہفتے کے وقفے کے اعلان کے بعد ایران کو اب بھی امریکی پیشکش پر غور کرنے کے لیے وقت دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا جس کے بعد تہران کی جوابی کارروائی نے مشرق وسطیٰ کو تنازعے اور عالمی معیشت کو بحران میں دھکیل دیا تھا۔

پاکستان کے زیرِ  ثالثی مذاکرات میں  ایران اور  امریکہ اپنے انتہائی  مطالبات کے ساتھ شامل ہوئے اور واشنگٹن نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز گزارنے کا اعلان کر کے دباؤ میں اضافہ کر دیا۔

تیل کی عالمی رسد کے   پانچویں حصّے کی گزر گاہ 'آبنائے ہُرمز' کے حوالے سے ایرانی ذرائع کی طرف سے امریکہ کو "غیر معمولی مطالبات" کا  قصور وار ٹھہرایا جانا مذاکرات میں تناؤ کی ایک بڑی علامت کے طور پر ابھرا ہے۔

آج بروز اتوار ایران کے ساتھ مذاکرات  کے بغیر معاہدے کے ختم ہونے کا اعلان کرنے سے کچھ ہی دیر بعد وینس پاکستان سے روانہ ہو گئے ہیں۔

پول رپورٹرز کے مطابق، وینس مقامی وقت کے مطابق صبح7 بج کر 8 منٹ پر ایئر فورس ٹو طیارے میں سوار ہوئے اور سیڑھیوں کے اوپر سے پاکستانی حکام کو الوداعی اشارہ کیا۔

دریافت کیجیے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی
پاکستان: ہم، لبنان میں اسرائیلی 'جارحیت' کی سخت مذّمت کرتے ہیں
شمالی کوریا نے کلسٹر مونیشن وارہیڈ بیلسٹک میزائل کاتجربہ کر ڈالا
لبنان پر حملوں کا جواب،حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے
امریکہ-ایران جنگ بندی کا اعلان،اسرائیل کی حمایت
لبنان پر اسرائیلی حملے، 4 افراد ہلاک
فائر بندی کی حمایت نیتن یاہو کی 'سیاسی ناکامی' ہے: لاپڈ
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی، عالمی اسٹاک میں زبردست اضافہ
ایران: امریکہ نے 10 نکاتی امن تجویز کو 'اصولی طور پر' قبول کر لیا ہے
پاکستان: امریکہ اور ایران فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی بھیڑ کو سنبھالنے میں مدد کرے گا: ٹرمپ