بدھ کو تیل کی قیمتیں اچانک نیچے آ گئیں جبکہ اسٹاکس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ، جب امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا جس کے تحت تہران عارضی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی آخری تاریخ کے قریب پہنچنے پر — جس میں ایران کو آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے یا 'نابودگی' کے خطرے کا سامنا کرنے کی وارننگ دی گئی تھی — دونوں ممالک نے حملے روکتے ہوئے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا اور کہا کہ انہیں 'قابل عمل' 10 نکاتی مجوزہ موصول ہوا ہے۔
بعد ازاں ایران نے کہا کہ اس نےآبنائے ہرمز کو باحفاظت گزرگاہ کے طور پر بحال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی، جس میں تقریباً 2,000 افراد جاں بحق ہوئے اور ایران کے بہت سے بنیادی ڈھانچے اور فوجی مقامات تباہ ہو گئے۔ ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ان ممالک جہاں امریکی فوجی اڈے ہیں اکو میزائل اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ۔
اس خبر نے خام تیل کی قیمتوں کو نیچے دھکیل دیا، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 20 فیصد تک گرا جبکہ برینٹ پیٹرول کے نرخوں میں تقریباً 16 فیصد تک کم ہوئی۔
اس پیش رفت نے بازارِ ہائے حصص کو تیزی سے بلندی کی طرف مائل کیا ، کیونکہ عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دینے والی اس جنگ کے خاتمے کے حوالے سے توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
سیئول انڈکس میں چھ فیصد سے زائد ، ٹوکیو انڈکس میں پانچ فیصد سے زائد، جبکہ تائی پی میں 4.2 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جبکہ سڈنی اور ہانگ کانگ کے انڈکس میں دو، دو فیصد سے زیادہ اضافہ ہونے کا مشاہدہ ہوا ہے۔ شنگھائی، ممبئی، بینکاک، منیلا، جکارتا، سنگاپور اور ویلنگٹن میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
ٹرمپ نے منگل کو دھمکی دی تھی کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو 'ایک پوری تہذیب آج رات تاریکی میں دفن ہو جائے گی'۔ اس سے قبل انہوں نے ایران کے ُپلوں، بجلی گھروں اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچے کوملیا میٹ کرنے کا عہد کیا تھا۔
ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر واشنگٹن نے تہران کی 'سرخ لکیروں' کو عبور کیا تو وہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کو 'سالوں' تک تیل اور گیس سے محروم کر دے گا۔
تاہم، جب دنیا کانٹوں پر کھڑی تھی تو امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر کہا: ' میری شرط یہ ہے، اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر راضی ہو، میں ایران پر بمباری اور حملوں کودو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہوں۔'
انہوں نے مزید کہا کہ 'یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی!' اور 'ہم نے پہلے ہی تمام فوجی مقاصد حاصل کر لیے ہیں، اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن کے حوالے سے ایک حتمی معاہدے پر بہت آگے بڑھ چکے ہیں، حتی مشرقِ وسطیٰ بھر میں قیام ِ امن کے حوالے سے بھی۔'
ایشیا کے لیے سکھ کا سانس
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، جنہوں نے اس مسئلے کی ثالثی میں نمایاں کردار ادا کیا، نے کہا کہ جنگ بندی پر فوری طور پر عمل درآمد ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ 'اپنے اتحادیوں کے ساتھ' ہر جگہ جنگ بندی پر اتفاق کر چکا ہے، بشمول لبنان، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اسرائیل نے اپنے شمالی پڑوسی پر حملے روکنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
تاہم تل ابیب نے کہا کہ وہ ایران پر بمباری کی معطلی کی حمایت کرتا ہے، مگر اس نے یہ موقف برقرار رکھا کہ یہ جنگ بندی لبنان کا احاطہ نہیں کرتی۔
ایران نے فتح کا دعویٰ کیا، اور ایرانی سپریم قومی سکیورٹی کونسل نے کہا: 'دشمن نے ایرانی قوم کے خلاف اپنی بزدلانہ، غیرقانونی اور مجرمانہ جنگ میں ناقابل تردید، تاریخی اور تباہ کن شکست کا سامنا کیا ہے۔'
جنگ بندی کے نتیجے میں ڈالر کی قدر میں بھی تیزی سے کمی آئی، جو جنگ کے دوران محفوظ پناہ گاہ بن چکا تھا، جبکہ یین، یورو اور پاؤنڈ مضبوط ہوئے۔
سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں، حالانکہ مہنگائی میں تیزی اور شرحِ سود کے بلند رہنے کے خدشات اسے متاثر کر رہے تھے، بٹ کوائن بھی بڑھ گیا۔
'حیران کن بات نہیں، ابتدائی مارکیٹ ردِ عمل مثبت رہا ہے، اگرچہ شاید اتنا بڑا نہیں جتنا لوگ توقع کر رہے تھے۔
دنیا کچھ ایسے خوشخبری کے لیے ہفتوں سے بے تاب تھی اور کشیدگی میں کمی کے لیے ٹھوس اقدامات دیکھنے کے لمحے کے منتظر تھے۔
ایس پی آئی ایسِیٹ مینجمنٹ کے اسٹیفن انیس نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ 'ایشیا کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے'، جہاں کئی حکومتوں کو بڑھتی توانائی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا پڑے تھے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی کم قیمتیں ان مشکلات کو دور کریں گی جس نے علاقائی خطرے کے احساس پر دباؤ ڈالا ہے، خاص طور پر اُن بازاروں میں جو درآمد شدہ توانائی جھٹکوں کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ شکار بنتے ہیں۔












