ارٹمِس 2 کے خلاباز زمین اور چاند کے درمیان نصف فاصلے سے آگے بڑھ چکے ہیں تو ناسا نے اوریئن خلائی شٹل کے اندر سے لی گئی کرہ ارض کی ابتدائی تصاویر جاری کی ہیں۔
خلا باز کرسٹینا کوخ نے کہا کہ عملے کے اراکین کے چہروں پر جب انہیں اس سنگِ میل کے بارے میں بتایا گیا تو مشترکہ 'خوشی کا اظہار' تھا، یہ پیش رفت خلائی شٹل کے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے پرواز کے تقریباً دو دن، پانچ گھنٹے اور 24 منٹ بعد حاصل ہوئی۔
کوخ نے حکام کے براہِ راست نشریہ کے مطابق جمعہ کی شب بتایا کہ 'ہم ابھی ڈاکنگ ہَیچ سے چاندکا مشاہدہ کر پا رہے ہیں، یہ ایک انتہائی دلکش نظارہ ہے'۔
ناسا کے آن لائن ڈیش بورڈ نے ہفتہ کے آغاز میں دکھایا کہ خلابازوں کو لے جانے والی اوریئن خلائی شٹل کرہ ارض سے 229,000 کلومیٹر (142,000 میل) سے زیادہ دوری پر تھی۔
اس خلائی ایجنسی نے قبل ازیں اوریئن سے تصاویر جاری کیں جن میں کرہ ارض کا مکمل پورٹریٹ شامل تھا، جس میں اس کے گہرے نیلے سمندر اور ابھرتے ہوئے بادل واضح دکھائی دیتے تھے۔
غیر معمولی مناظر
ایک ڈرامائی آغاز اور ایک انجن کے چلنے کے ساتھ انہیں چاند کے گرد تاریخی مدار کی طرف روانہ کیے جانے کے بعد ، چاروں خلاباز کچھ دیر کے لیے سکھ کا سانس لے سکے ہیں، وہ مختلف آلات کے چیکس اور ٹیسٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کینیڈین جیریمی ہینسن نے جمعرات دیر گئے پریس کے ساتھ سوال و جواب کے سیشن میں کہا کہ 'میرے لیے بہت زیادہ غیر یقینی کی صورتحال رہی ہے، یہ سب کچھ انتہائی غیر معمولی تھا'۔
ہینسن، جو پہلی بار خلاء کا سفر کر رہے ہیں، نے کہا 'مجھے یہاں واقعی بہت اچھا لگ رہا ہے۔ مناظر غیر معمولی ہیں'۔
انہوں نے مزید کہا کہ 'زیرو گریویٹی میں محسوس کرنا واقعی مزے کی چیز ہے، جو مجھے ایک چھوٹے بچے جیسا محسوس کرا رہی ہے'۔
ہینسن اس عملے میں امریکی کرسٹینا کوخ، وکٹر گلوور، اور ریڈ وائزمین کے ساتھ ہیں۔
وہ اگلے ہفتے کے آغاز میں چاند کے گرد چکر لگانے والے ہیں، ایک ایسا کارنامہ جو پچاس سال سے زیادہ عرصے میں سر انجام نہیں دیا گیا۔
ناسا کی افسر لیکیشا ہاکنز نے جمعہ کو ایک بریفنگ کے دوران کمانڈر وائزمین کی طرف سے اتاری گئی تصاویر کو 'حیرت انگیز' قرار دیا۔
ہاکنز نے کہا، "و ہم اس کے بارے میں بہت کچھ سیکھتے رہے ہیں،یہ ضروری ہے کہ ہم خود کو یہ یاد دلائیں کیونکہ ہم روز بروز تھوڑا زیادہ سیکھ رہے ہیں۔''
بلند حوصلے
ناسا نے کہا کہ جمعہ کے کاموں کی فہرست میں سی پی آر کا مظاہرہ اور طبی کِٹ کے چیکس شامل ہیں، نیز وہ سائنسی مشاہدات کی تیاری کریں گے جنہیں انہیں اپنے سفر کے چھٹے دن جب وہ چاند کے سب سے قریب ہوں گے دستاویزی شکل دینی ہوگی۔
ناسا کے عہدیداروں نے جمعہ کو بتایا کہ تمام نظام اچھے طریقے سے کام کر رہے ہیں، خلاباز وں کے حوصلے بلند ہیں اور انہوں نے اپنے خاندانوں سے بات بھی کی ہے۔
تقریباً 10 روزہ سفر کا اگلا بڑا سنگِ میل اتوار کی رات سے پیر کی طرف کے دوران متوقع ہے، جب خلاباز 'چاند کے کششِ ثقل ' میں داخل ہوں گے — وہ نقطہ جب چاند کی کششِ ثقل خلائی جہاز پر زمین کے مقابلے میں زیادہ اثر ڈالنا شروع کرے گی۔
اس میں نارمل ہونے کی کوئی بات نہیں
اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا اور اوریئن چاند کے گرد گردش کرے گا، خلاباز زمین سے کسی بھی انسان سے زیادہ دور جا کر ایک ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں۔
مشن کمانڈر وائزمین نے جمعرات کی شب کہا، 'اس میں نارمل ہونے کی کوئی بات نہیں۔' انہوں نے کہا، 'چار انسانوں کو 250,000 میل دور بھیجنا ایک بہت بڑا اور مشکل اقدام ہے، اور ہم اب اس کی سنگینی کو محسوس کر رہے ہیں۔'
ارٹمِس 2 مشن چاند پر بار بار واپس جانے کے طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایک مستقل قمری اڈہ قائم کرنا ہے جو مستقبل کی مزید تحقیقات کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔









