غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے دہشت گردی کا الزام لگا کر ایک خیراتی تنظیم کو بند کر دیا
اسرائیلی فوج نے "التضامن ویلفیئر ایسوسی ایشن" کے مرکزی دفتر کو "دہشت گردی کی حمایت" کے الزام میں بند کر دیا
اسرائیل نے دہشت گردی کا الزام لگا کر ایک خیراتی تنظیم کو بند کر دیا
[فائل]: اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں چھاپہ مار کارروائی کر رہی ہے۔ /AA

اسرائیلی فوج نے آج بروز منگل مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں سرگرم "التضامن ویلفیئر ایسوسی ایشن" کے مرکزی دفتر کو "دہشت گردی کی حمایت" کے الزام میں بند کر دیا ہے۔

مقامی ذرائع کی انادولو خبر ایجنسی  کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق  اسرائیلی فوجی دستے علی الصبح فوجی گاڑیوں اور ٹرکوں کے ساتھ نابلس میں داخل ہوئے اور تنظیم کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا۔

اسرائیلی فورسز نے دفتر کا سامان ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ غریب خاندانوں کے لیے تیار کی گئی امدادی اشیا بھی تحویل میں لے لیں۔ بعد ازاں عمارت کے داخلی دروازے کو سیل کر کے "تنظیم کو  دہشت گردی کی حمایت کے الزام میں بند کیا جا رہا ہے "کی تحریر والا  ایک فوجی حکم نامہ آویزاں کیا گیا ہے۔

نابلس کے گورنر غسان دغلس نے تنظیم کے دفتر کا دورہ کیا اور کہا ہے کہ "قابض اسرائیل، غریبوں اور یتیموں کی خدمت کرنے والی فلاحی تنظیموں کو نشانہ بنانے کی  پالیسی میں، کامیاب نہیں ہوگا۔"

انہوں نے کہا ہے کہ التضامن کو ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرنے کا طویل تجربہ حاصل ہے اور تنظیم کی بندش علاقے کے رہائشیوں تک امداد پہنچانے کے عمل کو نہیں روک سکے گی۔

غسان دغلس نے مزید کہا ہے کہ "اس تنظیم کو نشانہ بنانا ایک منّظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو کمزور کرنا ہے۔"

نابلس میں میڈیکل ریلیف ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر غسان حمدان نے بھی کہا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایسی کارروائی کی گئی ہو  بلکہ یہ فلسطینی معاشرے کی خدمت کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کی ایک منظم اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے۔

اسرائیلی فوج تقریباً روزانہ مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور قصبوں پر چھاپے مارتی ہے۔ ان کارروائیوں کے دوران اکثر گرفتاریاں، موقع پر تفتیش اور گھروں کی تلاشی لی جاتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 8 اکتوبر 2023 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں میں کم از کم 1,173 فلسطینی جاں بحق، 12,666 زخمی اور تقریباً 23 ہزار  گرفتار کئے جا چکے ہیں۔

ان حملوں کے دوران گھروں اور مختلف تنصیبات کو مسمار کیا جا رہا ہے، زرعی زمینوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، کسانوں کو اپنی زمینوں تک رسائی سے روکا جا رہا ہے، فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے باضابطہ الحاق کی راہ ہموار کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان ختم ہو سکتا ہے۔

اسرائیل 1948 میں ان علاقوں میں قائم ہوا جہاں مسلح صہیونی گروہوں نے قتلِ عام کئے اور کم از کم سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیل نے مزید فلسطینی علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا اور اب وہ ان علاقوں سے انخلا اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو قبول نہیں کرتا۔

دریافت کیجیے
یوکرین کے حملے،روس نے ایندھن کی فروخت بند کر دی
یورپ میں شدید گرمی نے پیرس کے مردہ خانوں پر بوجھ ڈال دیا
پاکستان: افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
ترکیہ کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ تعزیت
فرانس: طیارے کے حادثے میں 11 افراد ہلاک
سعودی عرب: ہیلی کاپٹر حادثے میں 14 افراد ہلاک
روس کا کیف پر بیلسٹک میزائل حملہ
نتن یاہو نے اگلے انتخابات کے بعد وسیع قومی حکومت بنانے کا اعلان کیا
اسرائیل کا بے گھر لوگوں کے خیمے پر حملہ،3 فلسطینی ہلاک
لبنان کی حاکمیت، معیشت اور مسلح افواج کی حمایت کرتے ہیں:ٹرمپ
کراچی: دہشتگردانہ حملے میں پاک رینجرز کے 3 جوان ہلاک
امریکی افواج کے ایران میں متعدد اہداف پر تازہ حملے
روسی میزائل اور ڈرونز نے یوکرین میں نافتو گیس تنصیب کو نشانہ بنایا
آبنائے ہرمز سے 100 سے زیادہ بحری جہازوں کو نکالا گیا ہے جن میں  ترک ملکیت کے جہاز بھی ہیں
ٹرمپ کی امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروس ٹیکس عائد کرنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی