امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا اور اسلام آباد میں طویل دورانیے کے مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے اپنی "آخری اور بہترین تجویز" پیش کر دی ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کو اس تجویز پر غور کرنے کے لیے اب بھی وقت دے رکھا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم یہاں سے ایک بہت سادہ سی تجویز کے ساتھ روانہ ہو رہے ہیں۔ ہماری پیش کردہ آخری اور بہترین پیشکش ہمارا مفاہمتی طریقہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔"
وینس نے کہا ہے کہ ایرانی وفد نے واشنگٹن کی شرائط کو قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مذاکرات کا تاحال کوئی اطمینان بخش نتیجہ نہیں نکلا۔ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہ کرنے کے عہد کے حوالہ سے وینس نے کہا "ہم نے فی الحال ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ امید ہے کہ ہم یہ دیکھیں گے۔"
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی اختلاف کا موضوع اب بھی ایران کا جوہری پروگرام ہے اور امریکہ اس حوالے سے طویل مدتی ضمانت چاہتا ہے۔
وینس کے مطابق "سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ ہم ایران کی طرف سے، جوہری ہتھیار نہ بنانے اور انہیں جوہری ہتھیار کا مالک بنا سکنے والے ذرائع کےتلاش سے باز رہنے سے متعلق، دوٹوک یقین دہانی کے خواہش مند ہیں "۔
ایران "انتہائی نوعیت کے" مطالبات کو مسترد کرتا ہے
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکتے ہیں کہ جب واشنگٹن ، تہران کی طرف سے "انتہائی نوعیت کے" اور "غیر قانونی" قرار دیئے گئے، مطالبات سے دستبردار ہو جائے ۔
ایران وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پیش رفت کا دارومدار امریکہ کی طرف سے "سنجیدگی اور نیک نیتی" دکھائے جانے اور ایران کے "قانونی حقوق اور مفادات" کو تسلیم کئے جانے پر ہے۔
بقائی نے کہا ہے کہ "اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریقِ مخالف کی سنجیدگی اور نیک نیتی، حد سے زیادہ اور غیر قانونی مطالبات سے اجتناب اور ایران کے جائز حقوق و مفادات کو قبول کرنے پر ہے۔"
انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان پیغامات اور مسودہ متن کے تبادلے کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ مذاکرات میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام، جنگی نقصان کا ازالہ (تاوان)، پابندیوں کا خاتمہ اور ایران اور خطے کے خلاف جنگ کا مکمل خاتمہ جیسے موضوعات زیر بحث آئے ہیں۔
بقائی نے مزید کہا ہےکہ ایران، امریکہ کی "بدنیتی" اور وعدہ خلافیوں کی تاریخ کو نہیں بھولا۔









