گزشتہ روز سامنے آنے والی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے گروپوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایریا A جو فلسطینی انتظامیہ کے زیر انتظام ہے اُس میں 100 اسٹریٹجک مقامات پر قبضہ کرنے کا ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار 'اسرائیل ہایوم' نے رپورٹ کیا کہ یہ منصوبہ 'سیٹلر فارمز ایسوسی ایشن' اور 'ہاوات فورم' کی جانب سے تیار کیا گیا ہےجس کا مقصد مقبوضہ علاقے کے نقشے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس تجویز میں مقبوضہ مغربی کنارے کے لگ بھگ 100 اسٹریٹجک مقامات پر افواج تعینات کرنے کا ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جسے رپورٹ میں "پلان پر عملدرآمد کا دن" کہا گیا ہے۔
یہ مقامات 'ایریا A' میں واقع ہیں، جو 1995 کے اوسلو II معاہدے کے تحت انتظامی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے مکمل طور پر فلسطینی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہے۔
اخبار نے بتایا کہ یہ منصوبہ اسرائیلی حکومت کے وزراء اور وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے قریبی افراد کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس منصوبے میں بڑے فلسطینی شہر بھی شامل ہیں۔
تنظیم آزادی فلسطین سے وابستہ 'اینٹی وال اینڈ سیٹلمنٹ کمیٹی' کے صدر مؤید شعبان نے اس تجویز کو مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی جانب ایک خطرناک قدم قرار دیا۔
انہوں نے دلیل دی کہ یہ منصوبہ غیر قانونی آباد کار گروپوں کی کوئی آزادانہ کوشش نہیں ہے، بلکہ یہ اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومتوں کی جانب سے اپنائی جانے والی وسیع تر پالیسیوں کی عکاسی کرتا ہے۔









