مشرق وسطی
5 منٹ پڑھنے
دوحہ میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات،ایران نے تردید کردی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے منگل کے روز قطر میں ایک ملاقات کی درخواست کی ہے، جبکہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کی منصوبہ بندی کی سختی سے تردید کی ہے
دوحہ میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات،ایران نے تردید کردی
ایران-امریکہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے منگل کے روز قطر میں ایک ملاقات کی درخواست کی ہے، جبکہ تہران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کی منصوبہ بندی کی سختی سے تردید کی ہے۔

 یہ بات چیت مشرق وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل جنگ کو ختم کرنے کے معاہدے سے متعلق ہے۔

جنگ کو روکنے اور انتہائی اہم آبنائے ہرمز  کو دوبارہ کھولنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ابتدائی معاہدہ جھڑپوں کی وجہ سے مسلسل دباؤ کا شکار رہا ہے، اور دونوں فریقین کے متضاد بیانات نے بھی اسے الجھا دیا ہے۔

پیر کے روز ٹرمپ کی جانب سے 'ٹروتھ سوشل'  پر ایران کے ساتھ دوحہ ملاقات کے دعوے کے فوراً بعد، ان کے ترجمان نے فوکس نیوز کو بتایا کہ امریکی مندوب اسٹیو وِٹکوف  اور ٹرمپ کے مشیر و داماد جیرڈ کشنر اس ہفتے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے لیے دوحہ جا رہے ہیں۔

سی این این  نے منگل کی صبح رپورٹ کیا کہ وِٹکوف قطر کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

تاہم، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز کہا کہ ان کے ملک کے ماہرین کا ایک وفد اس ہفتے دوحہ کا دورہ کرے گا، لیکن انہوں نے امریکیوں کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی سختی سے تردید کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کے مرحلے میں داخل نہیں ہوئے ہیں" اور واضح کیا کہ آنے والے دنوں میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات  پر کوئی ملاقات نہیں ہوگی۔

انتہائی اسٹریٹجک آبنائے پر ایران کے کنٹرول نے بارہا کشیدگی کو جنم دیا ہے، جس کی تازہ ترین مثال اتوار کی صبح سامنے آئی جب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے "تجارتی جہاز رانی کے خلاف مسلسل ایرانی جارحیت" کے جواب میں ایران کے 10 فوجی اہداف پر حملہ کیا ہے۔

تہران نے کہا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں پر حملوں کے ذریعے اس کا جواب دیا۔

آبنائے کی ناکہ بندی مذاکرات میں ایک بڑا رکاوٹی نقطہ بنی ہوئی ہے۔

ایران اور عمان اس آبنائے کی سرحدوں پر واقع ہیں، جہاں سے تنازع سے پہلے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا پانچواں حصہ گزرتا تھا، اور تہران نے پیر کے روز بتایا کہ معاہدہ طے پانے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی بات چیت کی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایکس (X) پر لکھا، "مسقط کے دورے کے دوران، مشترکہ ہرمز کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔"

یہ آبنائے عمانی اور ایرانی علاقائی پانیوں پر مشتمل ہے، لیکن بین الاقوامی قانون کے تحت یہ دونوں عام طور پر بحری جہازوں کا راستہ نہیں روک سکتے اور نہ ہی ٹول ٹیکس وصول کر سکتے ہیں۔

ایران نے اتوار کے روز خبردار کیا تھا کہ بحری جہازوں کی جانب سے ہرمز کے ذریعے اس کے پسندیدہ راستے کو بائی پاس (نظرانداز) کرنے کی کوئی بھی کوشش مشرق وسطیٰ میں "تناؤ میں اضافہ" کرے گی۔

ایران اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ آبنائے سے گزرنے والے جہاز اس کے اپنے ساحلوں کے قریب واقع ایک راہداری  سے گزریں۔

اس مفاہمت نامے پر کیسے عملدرآمد کیا جائے گا یہ اب بھی غیر واضح ہے، اور تہران خاص طور پر سمندری بارودی سرنگیں ہٹانے  کے معاملے پر انتہائی حساس ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے درمیان ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان میں پیرس اور مسقط نے کہا کہ وہ بارودی سرنگیں ہٹانے کے لیے مشترکہ آپریشن کریں گے۔

جواب میں، غریب آبادی نے اصرار کردیا کہ معاہدے کے تحت بارودی سرنگیں ہٹانے کی کوششیں صرف ایران کو کرنی ہیں۔

غریب آبادی نے لکھا، "صورتحال حساس اور پیچیدہ ہے۔ ہم فرانس کو سختی سے مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی اشتعال انگیزیوں سے اسے مزید پیچیدہ نہ بنائے۔"

میری ٹائم ٹریکنگ فرم 'کے پلو'  کے ڈیٹا کے مطابق، ہفتے کے آخر میں اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ایک جہاز پر حملے کے بعد ٹریفک سست ہو گئی، جہاں ہفتے کے روز 29 تجارتی جہاز اور اتوار کو صرف 12 جہاز گزرے۔

کے پلو کے ڈیٹا کے مطابق، کسی بھی جہاز نے عمانی پانیوں سے گزرنے والے جنوبی راہداری کا استعمال نہیں کیا، جبکہ ایک اور ٹریکر 'اے ایکس ایس میرین'  نے پایا کہ 44 جہازوں نے عوامی طور پر اپنی پوزیشن ظاہر کرنا بند کر دی تھی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان اس مہینے کے شروع میں ہونے والے مفاہمت نامے کے شائع شدہ متن کے مطابق، ایران عمان اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے آبنائے کے مستقبل کے انتظام کا تعین کرے گا، لیکن یہ بین الاقوامی قانون کے "مطابق" ہونا چاہیے۔

ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے میں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور ان اقدامات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔

ایران کے  رہبر اعلی  کے مشیر محمد مخبر نے ایکس پر لکھا کہ جب تک ایران آبنائے کا انتظام سنبھال رہا ہے، واشنگٹن کے "خطے میں بالادستی کے خواب پورے نہیں ہوں گے"۔

 



 

دریافت کیجیے
یوکرین کے حملے،روس نے ایندھن کی فروخت بند کر دی
یورپ میں شدید گرمی نے پیرس کے مردہ خانوں پر بوجھ ڈال دیا
پاکستان: افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
ترکیہ کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ تعزیت
فرانس: طیارے کے حادثے میں 11 افراد ہلاک
سعودی عرب: ہیلی کاپٹر حادثے میں 14 افراد ہلاک
روس کا کیف پر بیلسٹک میزائل حملہ
نتن یاہو نے اگلے انتخابات کے بعد وسیع قومی حکومت بنانے کا اعلان کیا
اسرائیل کا بے گھر لوگوں کے خیمے پر حملہ،3 فلسطینی ہلاک
لبنان کی حاکمیت، معیشت اور مسلح افواج کی حمایت کرتے ہیں:ٹرمپ
کراچی: دہشتگردانہ حملے میں پاک رینجرز کے 3 جوان ہلاک
امریکی افواج کے ایران میں متعدد اہداف پر تازہ حملے
روسی میزائل اور ڈرونز نے یوکرین میں نافتو گیس تنصیب کو نشانہ بنایا
آبنائے ہرمز سے 100 سے زیادہ بحری جہازوں کو نکالا گیا ہے جن میں  ترک ملکیت کے جہاز بھی ہیں
ٹرمپ کی امریکی کمپنیوں پر ڈیجیٹل سروس ٹیکس عائد کرنے والے ممالک پر 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی