ببرطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کے سامنے خاموش نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ "بچّوں سمیت عوام کی ایک بڑی تعداد حملوں میں ہلاک ہو چکی ہے، بہت کم امداد علاقے میں پہنچ پا رہی ہے۔"
اینڈی برنہم نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ برطانیہ نے مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اپنی پوزیشن کو "ری سیٹ" کیا ہے اور چند ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
برنہم نے زور دے کر کہا کہ" 7 اکتوبر 2023 کو جو کچھ ہوا، وہ غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل کے کسی بھی عمل کو جائز ثابت نہیں کر سکتا ۔ یہ معاملہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ جب کرب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہےاور دونوں قوموں کے لیے بہترین حل سمجھا جانے والا دو ریاستی حل حملوں کی زد میں ہے تو ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔"
برنہم نے مغربی کنارے میں اسرائیل کے بنائے جانے والے منصوبہ بند غیرقانونی بستیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا" اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اسی لیے ہم نے غیرقانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کی ہے۔ ہم نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر قبضہ غیرقانونی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مصائب اور ہلاکتیں فوراً ختم ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیلی اور فلسطینی ایک دوسرے کے ساتھ امن و سلامتی کے ماحول میں رہیں۔"
اینڈی برنہم نے کہا کہ دو ریاستی حل کے لیے بات چیت جاری رکھنے اور اس ہدف کو عملی طور پر نافذ کرنے میں ناکامی سے سیاسی اداروں پر اعتماد متاثر ہو رہا ہے" جس کا فائدہ ہمارے دشمن بھی اُٹھانا شروع کر دیں گے۔"




















