اسکول میں سیکھی گئی معلومات روزمرہ زندگی میں کتنی لاگو ہوتی ہیں کے حوالے سےحالیہ PISA رپورٹ کے مطابق ، فرانس، جرمنی، ہالینڈ اور فن لینڈ میں بنیادی خواندگی اور ریاضی کی صلاحیتوں سے محروم نوجوانوں کی شرح تقریباً ایک تہائی تک پہنچ گئی ہے۔
جب کہ برطانیہ اس عمومی کمی کے رجحان سے باہر رہا، رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ براعظم بھر میں دیکھا جانے والا یہ تنزل وبائی دور کے سیکھنے کے نقصان سے کہیں زیادہ ہے اور اس کے پیچھے ساختی مسائل ہیں، مثلاً مستقل اساتذہ کی کمی، نصاب کے مسائل اور اسمارٹ فونز کی وجہ سے توجہ کے دوارنیہ میں کمی۔
ممالک کے لحاظ سے ہونے والی کمی
جرمنی میں طلبہ کی سب سے کمزور کارکردگی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ تعلیمی کامیابی کا تعلق خاندانوں کے سماجی و اقتصادی حالات سے ہے، اور خاص طور پر کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں میں ناکامی کی شرح میں اضافہ نمایاں رہا۔
ہالینڈ میں ان صلاحیتوں میں تاریخی کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نوجوانوں کے ایک تہائی سے زائد روزمرہ زندگی کے لیے ضروری بنیادی مہارتوں سے محروم ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گراوٹ مستقل ساختی بحران میں بدل رہی ہے۔
روایتی تعلیمی چیمپیئنز جیسے فن لینڈ اور سویڈن میں اسی قسم کی کمی دیکھنے میں آنے پر حکام اور تعلیمی یونینز فوری اصلاحی اقدامات کرنے اور کلاسوں میں ڈیجیٹل توجہ بٹانے والے عوامل سے نمٹنے کی طرف مائل ہو گئی ہیں۔
















