اسرائیلی اخبار ماریف کے مطابق اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگ کے بعد فوجی اہلکاروں اور عسکری سازوسامان کی "شدید کمی" کا سامنا ہے اور وہ فوجیوں کی چھٹیاں معطل کرنے کی تیاری میں ہے۔
اخبار نے کہا، "اسرائیلی فوج میں فوجیوں کی تعداد میں شدید کمی کے نتیجے میں وہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے اور انہیں چھٹی دینے سے انکار کرنے کے لیے تیار ہے۔"
اہلکاروں کی کمی کے باوجود ماریف نے اکتوبر 2023 میں غزہ ڈویژن کے انٹیلی جنس افسر کے طور پر خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ کرنل اے. کی برطرفی کی اطلاع دی ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ "اسرائیلی فوج کے پاس مطلوبہ حد تک ٹینک اور بکتر بند اہلکار لے جانے والی گاڑیاں موجود نہیں ،" اور مزید کہا کہ تین سالہ جنگ نے ان کی تعداد میں کافی کمی لائی ہے جبکہ باقی ماندہ خراب ہو چکی ہیں۔
اخبار نے کہا، "سیاسی وجوہات کی بنا پر وزیر خزانہ بیزل سموتریچ اسرائیلی فوج کے فنڈز کم کر سکتے ہیں اور شکایتوں کا سامنا کر سکتے ہیں، جبکہ حزبِ اختلاف لاپرواہ بچے کی طرح اندرونی کشمکش میں مبتلا ہے ۔"
منگل کو اسرائیل کے چینل 12 نے رپورٹ کیا تھا کہ فوج نے امریکی بوئنگ سے 12 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹرز کی منصوبہ بند خریداری ختم کردی کیونکہ اس کے خریداری بجٹ میں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ رپورٹ اس دن آئی جب وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایک معمول کے اجلاس کے دوران حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپِد کو فوجی خریداری کے بجٹ میں اضافے پر تعاون کرنے کے لیے قائل کرنے میں ناکام رہے۔
چینل 12 نے کہا کہ فوج پہلے ہی خبردار کر رہی ہے کہ اگر طلب کردہ فنڈز میں اضافہ جلد نہیں آیا تو دورانِ جنگ نقصان پہنچنے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو دوبارہ سروس میں لانے کی کوششیں رک جائیں گی اور گولہ بارود پیدا کرنے والی کچھ لائنیں بھی متاثر ہوں گی۔
گزشتہ تین سالوں کے دوران، اسرائیلی عسکریت نے پورے خطے میں جنگیں اور عسکری کارروائیاں چلائیں، جن میں اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی اور مختلف شکلوں میں جاری غزہ پر جنگ بھی شامل ہے۔
اسرائیل نے لبنان اور ایران کے ساتھ بھی جنگیں لڑی ہیں، ساتھ ہی مقبوضہ مغربی کنارے اور شام میں جاری حملے بھی رہے ہیں۔
ان تنازعات نے اسرائیلی فوج پر انسانی اور مالی دونوں اعتبار سے نمایاں بوجھ ڈالا ہے، اس دوران اسرائیلی حکام نے اپنے نقصانات سے متعلق معلومات پر سخت سنسرشپ لاگو رکھی ہے۔


















