سیاست
2 منٹ پڑھنے
مغربی اور ایشیائی رہنماؤں کا اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے قبل مذاکراتی طویل المدتی حل پر زور
فرانس، اٹلی، جرمنی، جاپان اور آسٹریلیا ان ممالک میں شامل ہیں جو مشرق وسطی میں جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے دو ہفتے کی فائر بندی اور تیز سفارتی کوششوں کی مطالبہ کر رہے ہیں۔
مغربی اور ایشیائی رہنماؤں کا اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے قبل مذاکراتی طویل المدتی حل پر زور
امریکہ اور ایران کے وفود کی متوقع آمد کے پیش نظر، اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں۔ 11 اپریل 2026 کو۔ / Reuters
13 گھنٹے قبل

جمعہ کو فرانس، اٹلی، جرمنی، برطانیہ اور متعدد یورپی اور ایشیائی ممالک کے رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں تنازعے کے خاتمے کے لیے ایک معنی خیز مذاکراتی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ جب کہ اعلیٰ امریکی اور ایرانی عہدیدار پاکستان میں ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

ایک مشترکہ بیان میں فرانس، اٹلی، جرمنی، برطانیہ، اسپین، یونان، سویڈن، نیدرلینڈز، ڈنمارک، ناروے، فن لینڈ، لاتویا، پرتگال، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان اور دیگر کے رہنماؤں نے، یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کے سربراہان کے ساتھ مل کر، عارضی جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا اور اس معاہدے کے انتظام میں پاکستان اور شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ اگلا قدم سفارتی ذرائع سے جلد اور دائمی طور پر تنازعے کے خاتمے کو یقینی بنانا ہونا چاہیے اور ایک جامع تصفیے کی طرف تیز رفتار پیش رفت کی اپیل کی۔

بیان میں ایران میں شہریوں کے تحفظ اور علاقائی سلامتی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کا ایک سنگین بحران سامنے آ سکتا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ "ہم ان سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم امریکہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ ہم تمام فریقین سے بشمول لبنان میں فائر بندی پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

بیان میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کے عزم پر بھی زور دیا گیا۔

پاکستان نے ترکیہ، چین، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مل کر بدھ کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کروائی، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے 40 دن بعد ہوئی۔

فائر بندی معاہدے کے تحت دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اسلام آباد میں ملاقات کریں گے تاکہ مستقل امن کے مذاکرات کیے جائیں۔

واشنگٹن کی نمائندگی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایران کے وفد کی قیادت پارلیمنٹ اسپیکر باقر قالیباف کر رہے ہیں۔

ان مذاکرات کو 'اسلام آباد مذاکرات' کا نام دیا گیا ہے۔

 

دریافت کیجیے
ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی
پاکستان: ہم، لبنان میں اسرائیلی 'جارحیت' کی سخت مذّمت کرتے ہیں
شمالی کوریا نے کلسٹر مونیشن وارہیڈ بیلسٹک میزائل کاتجربہ کر ڈالا
لبنان پر حملوں کا جواب،حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے
امریکہ-ایران جنگ بندی کا اعلان،اسرائیل کی حمایت
لبنان پر اسرائیلی حملے، 4 افراد ہلاک
فائر بندی کی حمایت نیتن یاہو کی 'سیاسی ناکامی' ہے: لاپڈ
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی، عالمی اسٹاک میں زبردست اضافہ
ایران: امریکہ نے 10 نکاتی امن تجویز کو 'اصولی طور پر' قبول کر لیا ہے
پاکستان: امریکہ اور ایران فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی بھیڑ کو سنبھالنے میں مدد کرے گا: ٹرمپ
سعودی پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر رات کو حملہ، ایران پر جوابی کاروائی
امریکی-اسرائیلی حملوں میں ایران کے ہوائی اڈوں اور سول مقامات کو نشانہ بنایا گیا
ترکیہ: مسلح جھڑپ کے بعد تین مشتبہ افراد غیر فعال کر دیئے گئے
اسرائیل: ہم نے شیراز میں ایران کی پیٹروکیمیکل فیکڑی کو نشانہ بنایا ہے