ایران نے کہا ہے کہ ہم نے امریکہ کے 5ویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی 'آئی آر جی سی'نے آج بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر پر ڈرون حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی جنوبی ایران میں امریکی فضائی حملوں کا براہِ راست ردِ عمل ہے۔
آئی آر جی سی نے کہا ہے کہ خطے بھر میں فضائی اور بحری اڈے سمیت کل 21 امریکی عسکری اہداف پر حملے کئے گئے ہیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہےکہ اگر امریکی عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو وہ بھاری جوابی اقدامات کریں گے۔
آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے جنوبی صوبے 'بُوشہر' کے اوپر ایک امریکی ایم کیو۔9 ریپر ڈرون کو مار گرایا اورکویت کے علی السالم فضائی اڈے پر ڈرون حملہ بھی کیا ہے۔
بعد ازاں کویتی فوج نے واقعے کی تصدیق کی اور کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے دشمن طیارہ نما ہدف کو کامیابی سے ناکارہ کر دیا ہے۔
یہ کشیدگیاں جنوبی ایران کے متعدد مقامات، بشمول جاسک، سِرِک اور قشم جزیرے کے خلاف وسیع پیمانے پر امریکی ہدفی حملوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔
امریکہ نے ایران میں، ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور سمیت ، 20 اہداف پر حملے کئے ہیں۔
دُور مار میزائل
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق خطّے میں جھڑپوں کے وسیع پھیلاو کے تناظر میں، آئی آر جی سی نے اردن میں واقع امریکی الازراق اڈے پر دُور مار میزائل گرائے ہیں۔ حملے میں الازراق اڈے کے چار مخصوص مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں F-35 لڑاکا طیاروں کے ہینگر اور ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز بھی شامل ہے۔
اردن کی فوج نے کہا ہےکہ حملے ناکام بنائے جانے کے دوران میزائلوں کا ملبہ گرا ہے لیکن کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دریں اثنا، امریکی سینٹرل کمانڈ 'سینٹ کوم'نے کہا ہے کہ ہم نے امریکی آرمی اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی کے جواب میں ایران کے خلاف جاری حملے مکمل کر لئے ہیں۔
سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق سینٹ کوم کے دستوں نے فضائی قوتوں اور نیوی کے لڑاکا طیاروں سے فائر کردہ حساس گولہ بارود کے ذریعے خلیج ہرمز کے قریب ایرانی فضائی دفاع مراکز، زمینی کنٹرول اسٹیشنوں اور نگرانی ریڈار کے مقامات پر حملے کئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن، خطے کے پانیوں سے گزرنے والے امریکی فوجی جہازوں اور بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر، حالیہ حملوں کا 'مناسب جواب' تھا۔
ایک امریکی عہدیدار نے ابتدائی اندازوں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کے داغے گئے تقریباً تمام میزائلوں اور ڈرونوں کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔تاحال کسی امریکی اہلکارکے زخمی ہونے یا امریکی ٹھکانوں کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔













