امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے آج بروز سوموار کئے گئے نئے فضائی حملوں میں ایران بھر میں 25 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
جوابی حملوں میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اور مالیاتی اثاثوں کو نشانہ بنا کر میزائل حملے کئے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہُرمز کھولنے کے لئے دی گئی مہلت ختم ہونے کے قریب ہے۔
رات گئے تک تہران میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں، نیچی پرواز کرنے والے جیٹ طیاروں کی گرج سنائی دیتی رہی، اور شریف ٹیکنالوجی یونیورسٹی سمیت مختلف علاقوں پر حملوں کے بعد آزادی اسکوائر کے قریب گہرا دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔
ایران نے فوری طور پر جوابی کارروائی میں اسرائیل کے شمالی علاقوں پر میزائل حملے کئے جن کے نتیجے میں حیفا میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک نے ایران کی طرف سے آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کے لئے اپنے فضائی دفاعی نظام فعال کر دیئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کا بحران عالمی خطرات میں اضافہ کر رہا ہے
اس بحران کا مرکز ی نقطہ تیل کی عالمی ترسیل میں نہایت اہمیت کا حامل راستہ ' آبنائے ہرمز'ہے۔ ایران کے، گزرگاہ پر کنٹرول سخت کرنے کے بعد بحری آمدورفت کم ہو گئی اور توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے۔
ٹرمپ نے تہران کو آبی راستہ دوبارہ کھولنے کے لیے مہلت دی اور نافرمانی کی صورت میں بنیادی ڈھانچے پر وسیع پیمانے کے حملوں کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ نے "میں تمہیں جہنم کا مزہ چکھا دوں گا" کے الفاظ سے خبردار کیا اور کہا تھا کہ ہم، ایران کے بجلی گھروں اور نظامِ نقل و حمل کو مفلوج کرسکنے کے اہل بھاری حملے کر سکتے ہیں۔
تاہم ایران نے دھمکیوں کے باوجود پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار ظاہر نہیں کئے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ان تنبیہات کو "غیر ذمہ داری" قرار دیا اور کہا ہےکہ دباؤ اور فوجی کشیدگی انہیں رعایت دینے پر مجبور نہیں کرسکے گی۔
سفارت کاری میں خلل پڑ رہا اور جانی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے
درپیش صورتحال کے پس پردہ متحرک علاقائی و عالمی طاقتیں بحران پر قابو پانے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔
عمان نے ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کی تصدیق کی ہے، جبکہ مصر، روس اور دیگر ممالک بھی ہنگامی سفارتی رابطوں میں مصروف ہیں۔
تاہم زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو جنگ تباہ کن بدل چُکوا رہی ہے۔
جھڑپوں کے آغاز سے اب تک ایران میں 1,900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں؛ لبنان، اسرائیل اور دیگر علاقوں میں بھی بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے اور علاقائی کشیدگی میں شدت کے ساتھ، اس بات کے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ تنازعہ ایک وسیع تر جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے عالمی اقتصادی اثرات بھی ہوں گے۔












