امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کو بتایا ہے کہ ایران کے خلاف ان کی جنگ کی حمایت نہ کرنے پر بحر اوقیانوس کے پار اس اتحاد کے اراکین نے انہیں مایوس کیاہے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں مایوس کیا گیا، ہمیں اس معاملے میں یقیناً کسی مدد کی ضرورت نہیں تھی، ہم نے لفظی معنوں میں پہلے ہی ہفتے میں ایران کو تباہ کر دیا لیکن اگر وہ کہتے کہ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں تو یہ دیکھ کر اچھا لگتا۔
دوسری طرف روٹے نے نیٹو ممالک کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران 'یورپ میں قائم اڈوں سے پرواز کرنے والے 4,000 سے 5,000 امریکی طیارے' موجود تھے۔
ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو رہنما نے کہا کہ ٹرمپ اتحاد کے ساتھ مکمل طور پر مخلص ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں واشنگٹن یقیناً یورپ کا تحفظ کرے گا۔
ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر یہ تنقید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 32 رکن ممالک کے رہنما 7-8 جولائی کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے یکجا ہونے میں صرف دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ دوسرا صدارتی دور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی کے ساتھ گزرا ہے، جس میں گرین لینڈ کا معاملہ بھی شامل ہے جہاں صدر نے ہفتوں کی دھمکیوں کے بعد جنوری میں پیچھے ہٹنے سے پہلے گرین لینڈ کو امریکہ میں ضم کرنے کی دھمکی دی تھی۔
واشنگٹن نے یورپ کو یہ بات بھی واضح طور پر پہنچا دی ہے کہ وہ اپنی توجہ چین کی طرف منتقل کر رہا ہے اس لیے وہ چاہتا ہے کہ یورپ کے نیٹو اتحادی اپنے روایتی دفاع کی بنیادی ذمہ داری خود سنبھالیں۔
اس عمل کے ایک حصے کے طور پر، پینٹاگون نے اتحادیوں کو پہلے ہی مطلع کر دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے ان اثاثوں کی تعداد کم کر رہا ہے جو نیٹو کی کارروائیوں کے لیےمہیا کیے گئے تھے۔
امریکہ کے اس اقدام نے یہ تشویش پیدا کر دی ہے کہ یہ یورپ کو ایک جارحانہ روس کے سامنے کمزور کر سکتا ہے، کیونکہ یورپی اتحادی اب بھی اہم ہتھیاروں کے نظام کے لیے واشنگٹن پر ہی انحصار کرتے ہیں۔


















