مقامی میڈیا کے مطابق، تہران میں ایک سینئر ایرانی خارجہ پالیسی اہلکار ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے والے امریکی-اسرائیلی حملے میں شدید طور پر زخمی ہوگئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، کمال خرازی، جو اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ اور سابق وزیرِ خارجہ ہیں اس حملے میں زخمی ہوئے۔
بتایا گیا ہے کہ انہیں شدید چوٹوں کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ حملے میں ان کی اہلیہ ہلاک ہوگئیں۔
خرازی مرحوم لیڈر علی خامنہای کے سینئر مشیروں میں سے ایک رہے ہیں۔
انہوں نے اپنا عہدہ اس وقت بھی برقرار رکھا جب نئے رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہای نے اپنے والد کے عہدیداروں میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق، 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں علی خامنہای بھی شامل تھے ۔
ایران نے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور ان خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
ان حملوں سے جانی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اور عالمی بازاروں اور فضائی آمدورفت میں خلل واقع ہوا ہے۔













