استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر دفتر نے گزشتہ سال غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر مسلح حملے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت 35 مشتبہ افراد کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی ہے۔
فردِ جرم میں ہر مشتبہ شخص کے لئے عمر قید با مشّقت اور 4,596 سال تک سزائے قید طلب کی گئی ہے۔ الزامات میں "انسانیت سوز جرائم"، "نسل کشی" اور "تشدد" شامل ہیں۔
ستمبر 2025 میں جب گلوبل صمود فلوٹیلا کےرضاکار غزہ میں امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے، تو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں ان پر حملہ کیا تھا۔ ترکیہ نے یہ تحقیقات اقوام متحدہ کے بحری قانون (UNCLOS) اور ترک تعزیری قوانین کی رُو سے اور عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق دفعات کے فریم ورک کے تحت شروع کی ہیں۔
منظم خلاف ورزیاں
ترکیہ صدارتی محکمہ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے کہا ہے کہ " نیتن یاہو کی نہ تو کوئی اخلاقی قدر ہے اور نہ ہی کوئی قانونی حیثیت کہ وہ کسی کو سبق سکھا سکیں۔" دوران نے نیتن یاہو کو خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کا قصوروار ٹھہرایا اور کہا ہےکہ انہیں اپنے "انسانیت سوز جرائم" کا حساب دینا ہوگا۔
ترک حکام نے غزہ اور لبنان میں جاری خلاف ورزیوں کے خلاف بھی اپنے موقف کا اعادہ کیا اور احتساب اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ ناقدین اور علاقائی رہنماؤں نے نیتن یاہو کو تنازعے کو طول دینے کے لیے منظم طریقے سے جنگ بندی کے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کرنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل نے اکتوبر 2025 میں غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 2,000 سے زائد خلاف ورزیاں کیں اور 738 افراد کو قتل کیا۔ لبنان میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے اس دعوے کے ساتھ کہ یہ معاہدہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوتا، اپنے "ابدی تاریکی" نامی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ نے بدھ کے روز ہونے والے مربوط حملوں کو تنازعے کا " تباہ کن ترین" قدم قرار دیا ہے۔ ان حملوں میں صرف ایک دن میں ہلاکتوں کی تعداد 357 تک پہنچ گئی تھی۔
واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے 2024 میں غزہ میں ہونے والے جنگی جرائم پر نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 72,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے متنّبہ کیا ہے کہ 10 منٹ کے اندر 100 مقامات پر بمباری کے بعد لبنان اب تک کے سب سے "تباہ کن" بحران کا سامنا کر رہا ہے۔











