قطر کے شہر راس لافان انڈسٹریل سٹی میں ایک فیکٹری میں تکنیکی خرابی کے باعث ہونے والے دھماکے میں 54 افراد زخمی اور 18 دیگر لاپتہ ہو گئے ہیں۔
سول ڈیفنس کی ٹیموں اور ریسکیو کی خصوصی یونٹس نے اتوار کی شام کو ہونے والے اس دھماکے پر فوری کارروائی کی اور وہ موقع پر ہی بحران سے نمٹنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزارت نے تصدیق کی ہے کہ یہ حادثہ صنعتی زون کے ایک پلانٹ میں آپریشن کے دوران تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا، حالانکہ عوام کی حفاظت کے لیے خطرہ بننے والے کسی قسم کے گیس کے اخراج کا کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔
صورتحال کی تازہ ترین تفصیلات بتاتے ہوئے وزارت داخلہ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا چینل پر کہا کہ 'راس لافان صنعتی علاقے کے ایک کارخانے میں پیش آنے والے واقعے میں زخمیوں کی کل تعداد 54 افراد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ انٹرنل سیکیورٹی فورس کا قطری انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو گروپ سول ڈیفنس کی ٹیموں کے تعاون سے 18 لاپتہ افراد کے لیے تلاش کا آپریشن شروع کر رہا ہے۔
اس سے پہلے، سرکاری کمپنی 'قطر انرجی' نے واضح کیا تھا کہ یہ آپریشنل حادثہ اور اس کے بعد لگنے والی آگ 'برزان' مقامی گیس سپلائی کی سہولت پر آپریشنز شروع کرنے کے دوران پیش آئی۔
ایمرجنسی رسپانس ٹیموں نے آگ پر قابو پانے اور اسے بجھانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔
اگرچہ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دھماکہ ایک اندرونی تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہوا تھا، لیکن راس لفان کا یہ مرکز پہلے ہی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ میں نقصان اٹھا چکا تھا، جس کی وجہ سے قطر کو گیس کی پیداوار روکنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔
قطر، جو امریکہ، آسٹریلیا اور روس کے ساتھ دنیا کے معروف مائع قدرتی گیس (LNG) پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، نے 2 مارچ کو اہم تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار روک دی تھی۔
قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے اس وقت کہا تھا کہ 18 مارچ کو ہونے والے حملوں سے مزید نقصان کی وجہ سے ایل این جی کی برآمدی صلاحیت میں 17 فیصد کمی متوقع ہے اور اسے ٹھیک کرنے میں تین سے پانچ سال لگیں گے۔"














