ایرانی پارلیمانی اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل میں چیف مذاکرات کار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس طرزِ عمل کہ وہ حملوں کا اعلان کرتے ہیں اور بعد میں انہیں منسوخ کر دیتے ہیں ، کو امریکی "تھیٹر ڈپلومسی آن لوپ" قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔
محمد باقر قالیباف نے X پر اپنی پوسٹ میں مندرجہ ذیل بیانات کو جگہ دی ہے:"ایک بہت بڑا حملہ آ رہا ہے۔۔رُکو ذرا؛ چھوڑو چھوڑو، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، یہ بار بار دہرایا جانے والا تھیٹر طرزِ سفارت کاری ہے۔
قالیباف نے کہا کہ دھمکیاں، وعدہ خلافیاں اور جعلی خبریں ایک "ناکام حکمتِ عملی" کی عکاس ہیں۔
انہوں نے مزید کہا"حقائق قبول کریں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ہمیں مزید تھیٹر کے کھیل نہیں دیکھنا چاہتے۔"
ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مذاکرات میں 'شامل ' ہو گئے ہیں اور اشارہ دیا کہ کوئی معاہدہ 'جلد' طے پا سکتا ہے۔
اختلافات
حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران نے فوجی حملوں کا تبادلہ کیا ہے، جس میں واشنگٹن نے اُن مقامات کو نشانہ بنایا جو وہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے فوجی اڈے قرار دیتا ہے، اور تہران نے اس کے جواب میں چند خلیجی ممالک، خاص طور پر اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔
یہ کشیدگی اس کے باوجود بڑھی کہ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے تھے اور حتمی معاہدے کی طرف مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا۔
مذاکرات بعد ازاں سیکیورٹی ضمانتوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے نیویگیشن کی آزادی کے بارے میں اختلافات کے باعث رک گئے، جو توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کے لیے دنیا کی اہم گزر گاہوں میں سے ایک ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایران کو 'بہت سخت' نقصان پہنچانے کی دھمکی دی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ توانائی کے مراکز، پل اور بجلی کے پلانٹس نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ انہوں نے حملے روکے کیونکہ ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر متفق ہونے کا اشارہ دیا۔
کئی امریکی میڈیا اداروں کے مطابق، انٹرسیپٹر میزائل/دفاعی اسٹاک میں کمی نے بھی ایران پر اضافی حملے روکنے کے فیصلے میں کردار ادا کیا ہے۔















