شمالی کوریا نے کہا ہے کہ امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا اپنے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے ذریعے ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں "ایک نیا سلامتی بحران" پیدا کر رہے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی(KCNA) کےآج بروز منگل شائع کردہ تبصرے کے مطابق شمالی کوریا نے امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کو اپنا فوجی تعاون بڑھا کر ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں "ایک نیا سلامتی بحران" پیدا کر نے کا قصوروار ٹھہرایا اور خبردار کیا ہے کہ اس کے جواب میں مزید طاقتور دفاعی ومزاحمتی اقدامات کیے جائیں گے۔
تبصرے میں ایک فوجی مبصر نے کہا ہےکہ تینوں ممالک حالیہ عرصے میں امریکہ کی زیرِ قیادت میں منعقدہ رِم آف دی پیسفک (RIMPAC) بحری مشقوں سمیت وسیع پیمانے کی فوجی مشقوں کے ذریعے اپنی مشترکہ جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
پیانگ یانگ نے اس سال، 30 ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں، 30 سے زیادہ جنگی بحری جہازوں، پانچ آبدوزوں اور تقریباً 190 طیاروں کی شرکت سے، کی گئی RIMPAC مشقوں کو "جارحیت کی ریہرسل" قرار دیا اور امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ٹوکیو اور سیئول کی حمایت سے خطے میں فوجی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
فوجی مبصر نے مزید کہا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی حالیہ فضائی و لاجسٹک مشقیں، جاپان میں امریکی کمان کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے منصوبے اور جدید امریکی میزائل نظاموں کی تنصیب خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا "نئی سطح کے خطرے کا جواب نئی سطح کی تسدیدی صلاحیت کے ساتھ دے گا۔"
سائبر الزامات مسترد
دوسری جانب شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کی پُشت پناہی میں پیانگ یانگ پر عائد کیے گئے سائبر خطرات سے متعلقہ الزامات کو مسترد کیا اور انہیں "بے بنیاد" اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ سائبر کمانڈز، مشترکہ فوجی مشقوں اور مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق اقدامات کے ذریعے سائبر اسپیس کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق، ڈیجیٹل میدان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار پیانگ یانگ نہیں واشنگٹن ہے۔
















