آسٹریلیا نے پہلی مرتبہ انتہائی مہلک 'ایچ فائیو برڈ فلو' کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جنگلی حیات کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی آسٹریلیا کے ایک جزیرے پر درجنوں سمندری پرندوں کے مردہ یا بیمار حالت میں پائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ آسٹریلیا نے ایچ فائیو برڈ فلو کی وجہ سے جنگلی حیات کی اموات کی تصدیق کر دی ہے۔
خبرکے مطابق یہ پرندے جمعہ کے روز فضائی نگرانی کے دوران کیپ جافا سے تقریباً پانچ کلومیٹر جنوب میں واقع باوڈن راکس پر دیکھے گئے ہیں۔ آسٹریلیا کے نشریاتی ادارےABC کے مطابق متاثرہ پرندوں سے حاصل کیے گئے نمونوں کے لیبارٹری ٹیسٹ میں ایچ فائیو برڈ فلو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس تازہ پیش رفت کے بعد ملک میں تصدیق شدہ کیسوں کی مجموعی تعداد 74 ہو گئی ہے۔ ان میں 54 کیس جنوبی آسٹریلیا، 10 مغربی آسٹریلیا، 7 وکٹوریہ، 2 نیو ساؤتھ ویلز اور ایک کیس کوئنزلینڈ میں رپورٹ ہوا ہے۔
آسٹریلیا کی وزیرِ زراعت جولی کولنز نے کہا ہےکہ جنگلی پرندوں کی پہلی اجتماعی ہلاکت ایک متوقع واقعہ ہےکیونکہ جب ایچ فائیو برڈ فلو جنگلی حیات اور قدرتی ماحول میں پھیل جاتا ہے تو بڑے پیمانے کے نقصانات سے بچنا ممکن نہیں رہتا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ وائرس گھریلو مرغیوں یا تجارتی پولٹری فارموں تک بھی پہنچ گیا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق، موجودہ صورتحال میں انسانی صحت کے لیے خطرہ کم درجے کا ہے۔


















