ترکیہ میں صدارتی سرپرستی میں منعقدہ ساتویں بین الاقوامی یاٹ ریس تیسرے اور آخری "فتح کپ" مرحلے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی ہے۔
صدارتی سرپرستی میں، وزارتِ ثقافت و سیاحت اور وزارتِ نوجوانان و کھیل کے تعاون، استنبول گورنر دفتر اور ترکیہ سیاحتی ترقی ایجنسی (TGA) کے اشتراک اور استنبول اوپن سی یاٹ ریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ ساتویں صدارتی بین الاقوامی یاٹ ریسوں کے تیسرے مرحلے"فتح کپ" کا آغاز چراغاں محل کے سامنے سے ہوا۔ ریس کے فتح کپ مرحلے میں 58 ٹیموں اور 600 سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔
30 اگست یومِ فتح کی میراث کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والے اس خصوصی مرحلے میں ریس شروع ہوتے ہی بادبان استنبول باسفورس کی تُند ہواؤں کے مقابل کھل گئے۔ 600 سے زائد کھلاڑیوں کی شرکت سے منعقدہ ریس کا اختتام آرناوُت کوئے میں ہوا۔ ریس میں ملاح کھلاڑیوں کی ہوا کے خلاف حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی نمایاں رہی۔
فتح کپ، سلیم کاکش کی قیادت میں، 'زاکاپا'نامی کشتی نے جیتا ۔ اوغوز آیان کی قیادت میں 'اینجلز آف سی ایم سی ہولڈنگ'ٹیم نے دوسرے اور لیونت پینیرجی کی قیادت میں 'عنقا' ٹیم تیسرے نمبر پر رہی۔
تقریب سے خطاب میں استنبول اوپن سی یاٹ ریس کلب کے صدر اکرم یملی ہا اوغلو نے کہا کہ 30 اگست یومِ فتح کے موقع پر ایسی تقریب منعقد کرنے پر انہیں بہت فخر ہے۔
انہوں نے کہاکہ"ہمارے 600 سے زائد کھلاڑیوں نے ترک پرچموں سے سجی بادبانی کشتیوں کے ساتھ ریس میں حصّہ لیا۔ ہم نے صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ ہی نہیں کروایا بلکہ اس ریس ہماری شاندار تاریخ اور ہماری فتح کی میراث کے شایانِ شان ایک بصری جشن کا سماں بھی پیدا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ " میں، اس عظیم الشان پروگرام میں تعاون کرنے والے تمام اداروں اور ساحلوں پر جمع ہو کر ہمارے ساتھ اس جوش و جذبے میں شریک ہونے والے استنبول کے شہریوں کا، شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بادبانی کشتیوں کی ریس کا یہ مقابلہ ہمارے شاندار ماضی کے لئے ایک اظہارِ تشکر کی حیثیت رکھتا ہے"




















