پنامہ کینال اتھارٹی کی نائب صدر الیا ایسپینو ڈی ماروٹا نے جمعرات کے روز ایک بیان میں بتایا کہ مائع پٹرولیم گیس لے جانے والے ایک ٹینکر نے ایل نینو سے متعلقہ پابندیوں کے نفاذ سے قبل پنامہ کینال سے ترجیحی بنیادوں پر گزرنے کے لیے 53 لاکھ ڈالر ادا کیے۔
جنوبی کوریائی کمپنی ایس کے گیس نے اپنے ٹینکر جی اسپرٹ کو 1 ستمبر کو کینال سے گزارنے کے لیے یہ ریکارڈ رقم ادا کی، جو کہ کینال کے حکام کی جانب سے ایل نینو موسمیاتی رجحان کے باعث بحری جہازوں کی یومیہ تعداد کو کم کرنے سے ٹھیک دو دن پہلے کا وقت تھا۔
پنامہ وسطی امریکہ کا وہ تازہ ترین ملک بن گیا جس نے پورے خطے میں شدید خشک سالی کی وجہ سے ہنگامی حالت کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں کینال میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔
ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی عمل ہے جو خطِ استوا کے گرد وسطی اور مشرقی بحر الکاہل میں سطحِ سمندر کے درجہ حرارت کو بڑھا دیتا ہے، جس سے عالمی سطح پر ہواؤں اور بارشوں کے نظام میں تبدیلیاں آنے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی موسمی حالات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایل نینو عالمی درجہ حرارت میں بھی اضافہ کر رہا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ سال کے ریکارڈ حد تک گرم رہنے کی توقع ہے۔
پنامہ کینال سے گزرنے والے بحری جہاز اپنی بکنگ بہت پہلے سے کرواتے ہیں اور بکنگ نہ کروانے والے جہازوں کو اوسطاً پانچ دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے؛ تاہم آخری لمحات میں گزرنے کی اجازت خریدنے کے لیے ایک نیلامی کا نظام بھی موجود ہے۔
پنامہ کینال اتھارٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اکتوبر 2025 سے فروری 2026 کے درمیان نیلامی کی اوسط قیمت تقریباً 55,000 ڈالر رہی تھی۔
یہ بحری تجارتی راستہ، جہاں سے عالمی سمندری تجارت کا 5 فیصد حصہ گزرتا ہے، 3 ستمبر سے اپنی یومیہ گزرگاہوں کی تعداد 36 سے گھٹا کر 34 اور مہینے کے آخر تک مزید کم کر کے 32 کر دے گا۔














