وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ میں جدید اسلحے کے وسیع استعمال نے امریکی فوجی اسٹاک پائلز کونمایاں طور پر خالی کر دیا ہے، جس سے واشنگٹن کی چین اور روس کے خطرات کو روکنے کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے۔
عسکری منصوبہ کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وسائل کے اس اخراج نے امریکی یورپی کمانڈ، جو پورے براعظم میں امریکی فوجی آپریشنز کی ذمہ دار شاخ ہے، کو اپنے آپریشنل منصوبوں میں ترمیم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکی حکام کا تخمینہ ہے کہ اگر قلیل مدت میں کوئی فوجی کارروائی ہوئی تو واشنگٹن تائیوان کے دفاع کے لیے اپنے ہنگامی منصوبے مکمل طور پر نافذ نہیں کر سکے گا، تائیوان ایک خودمختار جزیرہ ہے جس پر چین خود مختاری کا دعویٰ کرتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی سے فضائی دفاعی یونٹس کو مشرق وسطیٰ منتقل کرنے سے امریکی عالمی فوجی پوزیشن میں 'کمزور گوشے' پیدا ہو گئے ہیں جو برسوں میں ہی دوبارہ مضبوط بنائے جا سکیں گے۔
کچھ حکام نے دعویٰ کیا کہ یورپ میں PAC-3 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور ATACMS زمین سے زمین پر فائر کرنے والے میزائلز کے ذخائر انتہائی خطرناک سطح تک کم ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، THAAD اینٹی میزائل انٹرسیپٹرز اور ڈرون مخالف نظام بھی مشرق وسطیٰ کی طرف موڑے گئے ہیں، جس سے براعظم میں دستیاب سپلائی مزید کم ہو گئی ہے۔ ان اقدامات نے مغربی ممالک کی یوکرین کو انٹرسیپٹر بھیجنے کی صلاحیت کو سختی سے محدود کر دیا ہے جب کہ روسی میزائل حملے جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے سرکاری طور پر کسی بھی بارود یا گولہ بارود کی کمی کی تردید کی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے پاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تمام مقاصد پورے کرنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں۔















