اسرائیلی فوج نے ، خطے میں کشیدگی میں کمی کے زیرِ مقصد شامی اور اسرائیلی وفود کے درمیان طے پانے والے تازہ مذاکرات کے بعد، شام کے جنوب میں ایک علاقے پر بمباری کی ہے۔
الاخباریہ ٹی وی کے مطابق "اسرائیلی قابض فوج نے بیت جِن کے قریب بات الوَردہ پہاڑی کو چار توپ گولوں سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
یہ حملہ امریکہ کے زیرِ ثالثی، شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی کی سربراہی میں شامی وفد کی اسرائیلی وفد سے اردن میں طے پانے والی ملاقات سے تقریباً ایک ہفتے بعد کیا گیا ہے۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ثناء نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سےکہا ہے کہ یہ ملاقات اسرائیل کی جانب سے اس سے قبل ایک شامی فضائی اڈے پر کیے گئے حملے کے بعد کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے تحت ہوئی تھی۔
سفارتی مذاکرات
شام کے صدر احمد الشرع نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ دمشق حکومت اسرائیل کے ساتھ ایک ایسے سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام کر رہی ہے جو مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر شام کے حق سے دستبردار ہوئے بغیر جامع امن کی راہ ہموار کرے گا۔
اسرائیل 1967 سے شام کی گولان پہاڑیوں کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے۔
اسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد اسرائیل نے، اسلحے کے گودام اور اہم فوجی تنصیبات سمیت، شام بھر میں اپنے حملوں کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع کر دیا ہے ۔ ان حملوں میں حالیہ طور پر ادلب کے شمال مغرب میں واقع ابو ظہور فضائی اڈے پر کی گئی بمباری بھی شامل ہے۔



















