دنیا
2 منٹ پڑھنے
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
آسٹریلیا، بونڈی بیچ پر 15 افراد  کے قتل کے دعوے میں گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہا ہے
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
[FILE]دسمبر 2025 میں بونڈی بیچ پر ہونے والے قتل عام میں 15 افراد ہلاک ہوئے۔ / اے پی

آسٹریلیا، بونڈی بیچ پر 15 افراد  کے قتل کے دعوے میں گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہا ہے۔

ایک اٹارنی  نے بدھ کے روز عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں حنوکا تقریبات کے دوران 15 افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار شخص 'نوید اکرم' کے خلاف جاری مقدمے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات شامل ہیں۔ تاہم دیگر شواہد کا جائزہ ابھی باقی ہے۔

25 سالہ نوید اکرم کو 14 دسمبر کو بونڈی بیچ پر ہونے والے اس قتلِ عام کے سلسلے میں سڈنی کی ڈاؤننگ سینٹر لوکل کورٹ میں مختصر سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔ پولیس کا الزام ہے کہ اس حملے سے داعش نامی دہشت گرد تنظیم سے الہام لیا گیا تھا۔ اکرم پر اس واقعے سے متعلق 78 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اٹارنی ڈینیئل نیو نے استغاثہ کے مقدمے کے لیے اب تک جمع کیے گئے متعدد شواہد کی تفصیلات عدالت کے سامنے پیش کی ہیں۔

اٹارنیوں کے عدالت میں دیگر پیش رفتیں پیش کر سکنے کے  لئےمقدمے کی سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

ڈینیئل نیو نے کہا ہے کہ 800 سے زائد گواہوں کے بیانات کے علاوہ ویڈیو ریکارڈنگز، بیلسٹک شواہد اور سات الیکٹرانک آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ تاہم مزید 12 الیکٹرانک آلات سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلے کی ٹیسٹ رپورٹ کا ابھی جائزہ لینا باقی ہے۔

الزام ہے کہ ملزم  اکرم اور اس کے 50 سالہ والد'ساجد اکرم' نے ساحل پر موجود یہودی ہجوم پر چار دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات پھینک کر حملے کا آغاز کیا لیکن  ان میں سے کوئی بھی پھٹا نہیں۔

پولیس کے مطابق ان آلات میں تین ایلومینیئم پائپ بم اور ایک ایسا بم شامل تھا جو ٹینس بال سے بنایا گیا تھا اور اس میں دھماکا خیز مواد، بارود اور اسٹیل کی گولیاں تھیں۔ اگرچہ ان میں سے کوئی بھی پھٹا نہیں تاہم  پولیس نے انہیں ’’مؤثر‘‘ دیسی ساختہ دھماکا خیز آلات قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ والد ساجد اکرم پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا تھا جبکہ بیٹا نوید اکرم زخمی ہو گیا تھا۔

نوید اکرم نے قتل، اقدامِ قتل اور دہشت گردی کی کاروائی  سمیت  اپنے اوپر عائد کیے گئے دیگر الزامات پر تاحال اپنا مؤقف یا دفاع پیش نہیں کیا ہے۔