ایشیا
3 منٹ پڑھنے
نگاساکی ایٹم بم کی 81 ویں برسی
ناگاساکی کے میئر شیرو سوزوکی نے جنوب مغربی شہر میں حملے کی سالانہ یادگاری تقریب کے دوران امن کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے کہا، "جوہری ہتھیار کوئی 'لازمی برائی' نہیں بلکہ ایک 'مطلق برائی' ہیں، اور یہ انسانیت کے ساتھ کبھی بقائے باہمی کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
نگاساکی ایٹم بم کی 81 ویں برسی
ناگاساکی / Reuters

 

ناگاساکی نے اتوار کے روز شہر پر امریکی ایٹم بم گرائے جانے کی 81 ویں برسی منائی۔

 یہ برسی ایک ایسے وقت میں منائی گئی ہے جب ملک کے دیرینہ امن پسندانہ مؤقف کو چیلنج کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں پر نئی بحث شروع کرنے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔

ناگاساکی کے میئر شیرو سوزوکی نے جنوب مغربی شہر میں حملے کی سالانہ یادگاری تقریب کے دوران امن کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے کہا، "جوہری ہتھیار کوئی 'لازمی برائی' نہیں بلکہ ایک 'مطلق برائی' ہیں، اور یہ انسانیت کے ساتھ کبھی بقائے باہمی کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔"

وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے گزشتہ جمعرات کو ہیروشیما کی یادگاری تقریب میں دیے گئے اپنے پیغام کو دہرایا کہ جاپان اپنے تین غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

مقامی وقت کے مطابق صبح 11:02 بجے خاموشی اختیار کی گئی، یہ وہ وقت تھا جب امریکی بمبار طیارے نے "فیٹ مین" نامی پلوٹونیم آلہ گرایا تھا جو ناگاساکی پر دھماکے سے پھٹ گیا تھا۔

/

یہ یادگاری تقریب ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ کا تنازع اور روس-یوکرین جنگ دنیا کو ہلا رہی ہے۔

سوزوکی نے جوہری طاقتوں اور جوہری روک تھام (ڈیٹرنس) پر انحصار کرنے والے ممالک کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا، اور نشاندہی کی کہ اب بھی 12,000 سے زیادہ جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں جوہری طاقتیں روس اور امریکہ ملوث ہیں۔

تاکائیچی نے کہا کہ اس عہد کے تحت کہ ناگاساکی جوہری حملے کا شکار ہونے والا آخری مقام رہے، اور جنگ میں جوہری تباہی کی ہولناکی کا تجربہ کرنے والے واحد ملک کی حیثیت سے، جاپان ایسے ہتھیاروں سے پاک دنیا کے قیام کے لیے "حقیقت پسندانہ اور عملی" کوششوں کو فروغ دے گا۔

انہوں نے مزید کہا، "ایٹمی بمباری کے حقائق کے بارے میں دنیا بھر میں درست سمجھ بوجھ کو فروغ دینے کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔"

اس سال یہ یادگاری تقریب ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جاپان کے دیرینہ تین غیر جوہری اصولوں (جوہری ہتھیار نہ بنانے، نہ رکھنے اور نہ لانے) پر نظر ثانی کے لیے بحث بڑھ رہی ہے۔

گزشتہ ماہ، وزیر دفاع شینجیرو کوئزومی نے کہا تھا کہ ٹوکیو کو جوہری ہتھیاروں پر بحث کی ضرورت ہے، کیونکہ کچھ یورپی ممالک جوہری روک تھام کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران 6 اگست 1945 کو ہیروشیما پر ہونے والے بم دھماکے میں سال کے آخر تک اندازاً 140,000 متاثرین ہلاک ہوئے تھے، جبکہ تین دن بعد ناگاساکی شہر پر گرائے گئے ایٹم بم سے اندازاً 74,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جاپان نے 15 اگست کو ہتھیار ڈال دیے، جس سے دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہو گیا۔



دریافت کیجیے
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ
امریکا نے برازیل کے سفیر کے ویزے کو منسوخ کر دیا
دنیا جاپان سے ہوشیار رہے: شمالی کوریا
ترکیہ قومی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر جنرل کی لیبیائی عہدیداروں سے انقرہ میں مذاکرات
روسی میزائل اور ڈراون حملوں میں کیف کے قرب و جوار میں 14 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ