ایرانی اعلیٰ ترین سیکیورٹی عہدیدار کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گا جب تک امریکہ اپنی جارحانہ پالیسیاں تبدیل نہیں کرتا اور ایران کے مطالبات پورے نہیں کرتا۔
ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ اس سٹریٹجک بحری راستے کو دوبارہ کھولنے کے لیے واشنگٹن کو "اپنا رویہ درست" کرنا ہوگا۔
انہوں نے چھ شرائط پیش کیں:
ایرانی سپریم لیڈر کے خلاف دھمکیاں بند کی جائیں۔
ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں مستقل طور پر روکی جائیں۔
ایرانی ناکہ بندی میں ملوث امریکی بحری اور فضائی افواج کو واپس بلایا جائے۔
حالیہ تنازعات کے دوران ہونے والے نقصانات کا تہران کو معاوضہ دیا جائے۔
امریکی پابندیاں ختم کی جائیں۔
ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں۔
ذوالقدر کا کہنا تھا کہ یہ مطالبات ایرانی عوام کی امنگوں کے ترجمان ہیں، جن کے لیے گزشتہ چھ دنوں سے ملک گیر ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ "سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل جنگ ہو یا مذاکرات، ان مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔"
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی سے 18 جون کو ایران اور امریکہ نے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت فعال دشمنی ختم کر کے وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کیے گئے تھے۔ اس مفاہمت نامے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کی بتدریج بحالی شامل تھی، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد اس پر عمل درآمد رک گیا ہے۔















