وینزویلا کی حکومت اور اپوزیشن نے کہا ہے کہ مشترکہ ورکنگ ایجنڈے پر اتفاق کے بعد سیاسی انتقالِ اقتدار سے متعلق بالمشافہ مذاکرات آئندہ ہفتے دارالحکومت کاراکاس میں شروع ہو جائیں گے۔
قومی اسمبلی کے صدر اور حکومت کے چیف مذاکرات کار خورخے روڈریگیز نے اپوزیشن رہنما دینورا فیگیرا سے ٹیلیفون پر گفتگو کے بعد کہا، "ہم نے آئندہ ہفتے کاراکاس میں پہلی بالمشافہ ملاقات پر اتفاق کر لیا ہے۔"
روڈریگیز نے ایک بیان میں کہا، "ہم نے واضح اور قابلِ تصدیق اہداف پر مشتمل ایک ورکنگ ایجنڈا تیار کیا ہے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ پہلی ملاقات میں گزشتہ ماہ آنے والے زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد، جمہوریت کے استحکام اور سیاسی حقوق جیسے موضوعات پر بات کی جائے گی۔
عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگیز کے بھائی خورخے روڈریگیز نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایک جامع اور مؤثر مذاکراتی عمل کا آغاز ہوگا۔
حکومتی وفد میں سابق وزیر خارجہ خورخے اریازا بھی شامل ہوں گے۔
2015 میں پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے والے اپوزیشن اتحاد کی رہنما دینورا فیگیرا نے بھی ایک بیان میں ٹیلیفونک گفتگو اور طے شدہ ایجنڈے کی تصدیق کی۔
دونوں رہنما آخری بار 24 جون کو آنے والے زلزلوں سے چند روز قبل ملے تھے۔
امریکہ کی حمایت یافتہ مذاکرات
انتقالِ اقتدار سے متعلق یہ مذاکرات عبوری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری عمل کا حصہ ہیں، جنہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد جمہوری اداروں کی بحالی، ووٹروں کو بااختیار بنانا اور سیاسی شرکت کی ضمانت دینا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگیز کے بارے میں اپنے اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب سابق صدر نکولس مادورو کے حامیوں نے اس عمل پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق اس میں صرف امریکہ کی حمایت یافتہ نمائندے شامل ہیں۔
وینزویلا میں 2024 کے آخری صدارتی انتخابات متنازع رہے، جن میں سرکاری نتائج کے مطابق نکولس مادورو کامیاب قرار پائے، جبکہ اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ ان کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیس اوروتیا نے انتخابات جیتے تھے۔
پاناما میں موجود اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے کہا کہ اگرچہ انہیں مذاکرات میں مدعو نہیں کیا گیا، پھر بھی وہ اس عمل کی مخالف نہیں ہیں۔
فیگیرا نے امریکہ کی حکومت، بالخصوص وزیر خارجہ مارکو روبیو، کا وینزویلا میں انتقالِ اقتدار کے عمل کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا، "یہ تمام وینزویلائی عوام کے لیے باوقار مستقبل کی تعمیر کی جدوجہد میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔















