کینیڈا کے شہر ونی پیگ میں ایک مسجد پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب اندر نمازی موجود تھے۔
کمیونٹی رہنماؤں کے مطابق، پولیس اس واقعے کی نفرت انگیز جرم کے شبہے میں تحقیقات کر رہی ہے۔
رحمہ اسلامی مرکز نے بتایا کہ بدھ کی شام کار میں سوار دو افراد نے مسجد پر گولیاں چلائیں اور پھر کسی سخت چیز سے کھڑکیاں توڑ دیں۔
مرکز نے اپنے بیان میں کہا کہ خوش قسمتی سے وہ عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکے اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔"
بیان میں مزید کہا گیا کہ شبہ ہے کہ یہ وہی حملہ آور تھے جنہوں نے اسی دن اس سے قبل مسجد کے باہر جمع لوگوں پر نسل پرستانہ جملے کسے اور گالیاں دی تھیں۔
بیان کے مطابق، اس حملے نے ہمارے رضاکاروں، کمیونٹی، بچوں اور عملے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ونی پیگ پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے املاک کو نقصان پہنچانے کی رپورٹ پر کارروائی کی۔
محکمہ پولیس کا سنگین جرائم کا ونگ اور ہیٹ کرائم کوآرڈینیٹرز اس معاملے کی جانچ کر رہے ہیں، اب تک کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
وزیر اعظم مارک کارنی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلامو فوبیا کا ایک "خوفناک" واقعہ قرار دیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ "اسلامو فوبیا کا یہ پرتشدد واقعہ ہولناک ہے اور کینیڈا میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے البتہ مجھے خوشی ہے کہ کوئی زخمی نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔



















