وینزویلا کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ کاراکاس نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ان بیانات پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ایران کے سفیر کو طلب کیا ہے جنہیں وینزویلا نے تہذیب سے گرے ہوئے اور نامناسب قرار دیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ 'وینزویلا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر کو وینزویلا کے اداروں اور حکام کے خلاف کیے گئے ہتک آمیز اور نامناسب الفاظ پر احتجاجی مراسلہ دینے کے لیے وینزویلا کی وزارتِ خارجہ میں طلب کیا گیا تھا۔
وینزویلا کے حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ احتجاج کس مخصوص بیان پر کیا گیا ہے تاہم، انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ایران وینزویلا نہیں ہے جہاں ایک شخص کو نشانہ بنایا جائے اور باقی سب خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ جائیں۔
یہ سفارتی تنازع دونوں تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان ایک نایاب کھچاؤ کا اشارہ ہو سکتا ہے جنہوں نے 1999 میں سابق آنجہانی صدر ہوگو چاویز کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے قریبی سیاسی اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ مخالف بیانیے کے لیے مشہور کاراکاس اور تہران نے گزشتہ تین دہائیوں میں توانائی، کان کنی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں معاہدوں کے ذریعے اپنے باہمی تعاون کو وسیع کیا ہے۔
سال 2020 میں، شدید اقتصادی بحران کے دوران جب کاراکاس اپنا خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو رہا تھا، ایران نے وینزویلا کو 15 لاکھ بیرل پٹرول بھیجا تھا۔ بعد ازاں 2025 میں، جب امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا کو ادویات درآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا، تو ایران نے اسے پولیو اور ہیپاٹائٹس کی ویکسین کی 20 لاکھ سے زائد خوراکیں بھی فراہم کی تھیں۔
امریکی فوجی مداخلت کے نتیجے میں نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی برطرفی کے بعد قائم ہونے والی وینزویلا کی نئی عبوری حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرے گی، جس کے نتیجے میں تہران کے ساتھ اس کے موجودہ روابط ازسرِِنو تبدیل ہو سکتے ہیں۔
وینزویلا میں نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے مذاکرات کا آغاز 1 اگست سے امریکی نگرانی میں متوقع ہے۔






















