آسٹریلیا اور جاپان نے ہفتے کے روز 10 بلین آسٹریلوی ڈالر (7 بلین امریکی ڈالر) کے جنگی جہازوں کے حوالے سے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جو کہ سنہء 2014 میں جاپان کی طرف سے طویل عرصے کی دفاعی برآمدات پر پابندی ہٹائے جانےکے بعد ٹوکیو کی سب سے بڑی فوجی برآمدات ہو ں گی۔
دفاعی وزراء رچرڈ مارلز اور شِن جیرو کوئزومی نے میلبورن میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جس میں دونوں حکومتوں نے جدید فریگیٹس کے بیڑے کی فراہمی کے عزم کی توثیق کی۔
معاہدے کے تحت، مٹسوبشی ہیوی انڈسٹریز 2029 سے جاپان میں رائل آسٹریلین نیوی کے لیے تین اپ گریڈ شدہ موگامی کلاس کثیرالفعالی فریگیٹس تعمیر کرے گی، جبکہ بعد ازاں مزید آٹھ جہاز آسٹریلیا میں تیار کیے جائیں گے۔
یہ جہاز اینٹی سب میرین جنگ، فضائی دفاع، اور سطحی جنگی آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں ، یہ توقع کی جاتی ہے کہ یہ بحری جہاز آسٹریلیا کے شمالی راستوں اور انڈین اور پیسیفک سمندروں میں اہم بحری تجارتی راستوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
چینی اثرات
یہ معاہدہ جاپان کی طرف سے بعدِ جنگ پُرامن مؤقف سے وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ یہ اپنی سیکیورٹی شراکت داریاں، خاص طور پر خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کے ردِعمل کے طور پر، اپنے امریکہ کے ساتھ اتحاد سے مزید آگے بڑھا رہا ہے۔
آسٹریلیا بعد میں پیداوار کو مغربی آسٹریلیا کے نزدیک پرتھ کے ہینڈرسن شپ یارڈ منتقل کرے گا، جس سے یہ منصوبہ اسٹریٹجک اور صنعتی دونوں لحاظ سے سرمایہ کاری بن جائے گا۔
یہ معاہدہ انڈو پیسیفک دفاعی تعاون میں ایک بڑا قدم ہے، کیونکہ خطے کی طاقتیں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے دوران فوجی ہم آہنگی مضبوط کر رہی ہیں۔








