غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی روزانہ کی خلاف ورزیوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں تین فلسطینی جاں بحق اور بچوں سمیت کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
الشفا اسپتال کے ایک طبی ذرائع نے منگل کے روز بتایا کہ غزہ شہر کے مغرب میں واقع النصر محلے میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد دو فلسطینیوں کی لاشیں اور بچوں سمیت کئی زخمی افراد کو اسپتال لایا گیا۔
انادولو کے ایک نامہ نگار کے مطابق اس حملے میں البتول عمارت کے ایک اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں دو فلسطینی جاں بحق اور بچوں سمیت کئی دیگر زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع نے حملے میں جاں بحق ہونے والے دونوں فلسطینیوں کی شناخت عزالدین البیک اور مہند ابو فول کے طور پر کی ہے۔ چشم دید گواہوں نے بتایا کہ ایک اسرائیلی خودکش ڈرون نے حملے سے کچھ دیر قبل علاقے کے اوپر چکر لگانے کے بعد یہ حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حملے سے مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اپارٹمنٹ میں آگ لگ گئی جو مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
وسطی غزہ میں دیر البلح کے مشرق میں صلاح الدین اسٹریٹ پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک اور فلسطینی جاں بحق ہو گیا۔ الاقصی شہداء اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ احمد ابو مور کی لاش اسپتال لائی گئی جسے دیر البلح کے مشرق میں اسرائیلی افواج نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ دریں اثنا، چشم دید گواہوں اور مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے دیر البلح کے مشرق میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں کے اندر عمارتوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک بڑے پیمانے پر انہدام کا آپریشن کیا۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 1,421 فلسطینی جاں بحق اور 4,983 دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے غزہ پر اسرائیل کی جنگ میں 74,000 سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 175,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کا تقریباً 90 فیصد انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔



















