علاقائی حکام نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنانے والے روسی ڈرون حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ ماسکو نے ملک بھر میں ایک وسیع فضائی جارحیت شروع کر دی ہے۔
کیف کے علاقائی پراسیکیوٹر آفس کے مطابق، ایک حملہ 'صوفی وسکا بورشچاہیوکا' نامی گاؤں کے ایک مقامی بازارپر ہوا، جبکہ دیگر ڈرون حملوں سے سویلین گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور دارالحکومت کے علاقے میں تجارتی گوداموں اور دفتری عمارتوں میں شدید آگ لگ گئی۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روسی افواج نے ہفتے کے روز سے اب تک مختلف ماڈلز کے 277 حملہ آور ڈرونز داغے ہیں، جس سے ملک بھر میں سویلین بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جس میں ایک ایسی عمارت بھی شامل ہے جو سعودی عرب کے سفیر کی سرکاری رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری کردہ ایک بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ کیف میں ڈرون حملوں کی اس لہر نے کنڈر گارٹن، اسکولوں، رہائشی مکانات، گاڑیوں کی مرمت کی دکان اور مواصلاتی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ مزید حملے ڈنیپرو میں ایک اسپورٹس اسکول اور سومی کے علاقے میں بچوں کے ایک یتیم خانے پر بھی کیے گئے۔
زیلنسکی نے کہا کہ ایسا کرنے کے پیچھے روس کا کوئی فوجی مقصد نہیں ہے یہ خالصتاً لوگوں کے حوصلے توڑنے اور ہمارے معاشرے کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔"
انہوں نے ماسکو کی جانب سے حال ہی میں کی جانے والی سفارتی پیشکشوں کو مسترد کرتے ہوئے دلیل دی کہ یہ صرف فیصلہ کن بین الاقوامی اقدامات کو روکنے کے لیے تیار کی گئی ہیں۔
دوسری جانب، روسی وزارتِ دفاع نے ٹیلی گرام کے ذریعے بتایا کہ اس کی افواج نے کیف اور اوڈیسا میں مواصلاتی اور لاجسٹک مراکز کے ساتھ ساتھ ایک ایسے مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے جس کے بارے میں مبینہ طور پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ فوجی سامان منتقل کر رہا تھا، اور روس نے اپنے اس موقف کو دہرایا کہ وہ صرف فوجی اثاثوں کو نشانہ بناتا ہے۔



















