آذربائیجان کے صدر الہام علی ییف نے باکو میں منعقدہ دوسرے بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم میں شرکت کی اور فورم سے خطاب کیا۔ ایک مستحکم معیشت اور آزاد مالیاتی اور اقتصادی نظام کی اہمیت کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے، علی ییف نے کہا ہےکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی بہت سی سرکردہ بین الاقوامی کمپنیاں آذربائیجان کو ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ "گزشتہ 20 سالوں میں آذربائیجان میں تقریباً 350 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جس میں سے نصف براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ہے ۔
تیل اور قدرتی گیس کے علاوہ دیگر شعبوں کی صلاحیت کے طویل مدتی اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی میں اس حوالے سے بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے۔
اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آذربائیجان کے پاس بحیرہ کیسپین کے شعبے میں 157 گیگا واٹ توانائی کی صلاحیت ہے، علی ییف نے کہا ہے کہ اس وقت چالو زمینی، شمسی اور ہوا سے چلنے والے پاور پلانٹوں کو اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ بجلی کی پیداوار میں قدرتی گیس کی کھپت کو جتنا ممکن ہو کم سے کم کیا جائے اور اس کے ذخائر کو برآمد کے لیے استعمال کیا جائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ " آئندہ 5 سالوں میں آذربائیجان میں ہر جگہ قابل تجدید توانائی ہوگی۔"
یہ بتاتے ہوئے کہ قابل تجدید توانائی صرف پیداوار، ترسیل اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے متعلق نہیں ہے، علی ییف نے کہا ہے کہ اس وقت ان کے پاس 250 میگا واٹ ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے اور یہ صرف شروعات ہے۔ آذربائیجان کا ہدف برقی توانائی کا ایک اہم سپلائر بننا ہے۔ ہم تیل، قدرتی گیس، پیٹرولیم مصنوعات، پیٹرو کیمیکل اور کھاد کے علاوہ برقی توانائی خاص طور پر یورپی منڈی میں برآمد کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ "برقی توانائی کی برآمد، خاص طور پر یورپی منڈی میں، توانائی کی حفاظت، رابطے اور باہمی انحصار کو بھی مضبوط کرے گی۔"



















