عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب، اس کے شہریوں اور قومی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں ایک غیر ذمہ دارانہ اور معاندانہ رویے کی عکاس ہیں۔
المالکی نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے حال ہی میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہروں میں سویلین اور تجارتی تنصیبات پر کیے گئے حملے جن میں 73 افراد زخمی ہوئے، سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس کی سکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی جانب سے بلا جواز کیے جانے والے ان حملوں کا مقصد سعودی عرب کی اقتصادی صلاحیت کو نقصان پہنچانا ہے۔
المالکی نے مزید کہا کہ عرب اتحادی افواج حوثیوں کے ان حملوں کو ناکام بنانے اور اس جارحانہ رویے کا پختہ عزم کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری "آپریشنل" اقدامات کرے گی۔
واضح رہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ستمبر 2014 سے دارالحکومت صنعاء سمیت یمن کے متعدد علاقوں پر قابض ہیں۔
دوسری جانب، سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد مارچ 2015 سے یمن کی آئینی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔

















