زیلنسکی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں لکھا ہے کہ روس نے رات بھر یوکرین کے مختلف حصوں پر حملے کیے۔
انہوں نے بتایا کہ علاقے کے کامیانسکے شہر میں ایک بازار کو نشانہ بنایا گیا، اور بتایا کہ حملے میں 4 افراد جان بحق اور 5 زخمی ہوئے۔
زیلنسکی نے کہا کہ روسی حملوں میں ہرسون، بورسپول اور خارکیف کے علاقوں کے متعدد رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا، اور سومی اور میکولائیف میں ڈرونز نے خریداری مراکز کو بھی نشانہ بنایا۔
زیلنسکی نے بتایا کہ روس نے رات کے اوقات میں کیف اور بورسپول کے ہوائی اڈوں پر بھی حملے کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ حملے 'طویل وقفے کے بعد پہلی بار جان بوجھ کر' کیے گئے۔
امریکی سفارت کاری کے خلاف روس-ایران 'شاہد' (ایران ساختہ ڈرونز)
زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے اس تناظر میں کیے گئے کہ آنے والے امریکی نمائندے کیف یا بورسپول ہوائی اڈے پر اتر سکتے ہیں، اور کہا: 'امریکی سفارت کاری کے خلاف روس-ایران شاہد (ایران ساختہ ڈرونز)۔'
زیلنسکی نے کہا کہ وہ روس کے اس اقدام کو نوٹ کر چکے ہیں اور بتایا: 'اگلے ہفتے ہم اپنے آپریشن کی اسی کے مطابق دوبارہ منصوبہ بندی کریںھ گے، کیونکہ ڈراونز اور میزائلوں کی فضا میں موجودگی روسی فضائی حدود کو خطرناک بنا دیتی ہے۔'
زیلنسکی نے زور دیا کہ یوکرین کی طرف سے کسی بھی قسم کی سفارت کاری کو نشانہ بنانے کی کوئی دھمکی نہیں ہے اور نہ ہی ہوگی، اور کہا: 'یوکرین امن کو قریب لانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور روس کو اپنے کیے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔'
















