ایستونیا کے وزیرِ دفاع ہانو پیوکور نے یوکرین کے لیے توپ خانہ گولہ بارود کی خریداری سے متعلق 7 کروڑ یورو (8 کروڑ 11 لاکھ ڈالر) کے معاہدے کے ترسیلی عمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث تحقیقات شروع ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔
پیوکور 2022 سے وزیرِ دفاع کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے 2 ستمبر کو سرکاری نشریاتی ادارے 'ای ٹی وی' پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے اس اسکینڈل کا بھی ذکر کیا ہے۔
پیوکور نے فیس بک سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’’ایک رہنما میں اتنی طاقت اور حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ ذمہ داری قبول کر سکے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ نیشنل آڈٹ آفس کی تحقیقات کے نتائج نے سیاسی ذمہ داری کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
نیشنل آڈٹ آفس نے 28 اگست کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں حالیہ برسوں کے دوران وزارتِ دفاع کی جانب سے کی جانے والی دفاعی خریداریوں پر تنقید کی اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایستونیا کو حکومتی بجٹ پر 7 کروڑ یورو کی لاگت برداشت کرنا پڑ سکتی ہے۔
ایستونیا کے روزنامہ ایستی ایکسپریس کے مطابق، ایستونیا نے 2024 میں بھارتی کمپنی Neco Defense Munitions کی زیرِ ملکیت اور اٹلی میں رجسٹرڈ کمپنی Datasel S.R.L. کے ساتھ گولہ بارود کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا۔
یوکرین کو توپ خانہ گولوں کی فراہم کے زیرِ مقصد سے کیے گئے اس معاہدے کی مالی معاونت یورپی یونین کے یورپی امن فنڈ کے ذریعے کی گئی تھی۔
ایستونیا دفاعی سرمایہ کاری مرکز RKIK نے Datasel کو پیشگی ادائیگیاں کیں، تاہم سامان کی ترسیل بارہا مؤخر ہوتی رہی اور کئی ماہ تک گولہ بارود فراہم نہیں کیا گیا۔
ایستی ایکسپریس کے مطابق 2025 میں بالآخر ایک کھیپ اپنی منزل تک پہنچی، لیکن گولہ بارود ناقص اور ’’ناقابلِ استعمال‘‘ تھا۔
اصل معاہدے کی نگرانی کرنے والے RKIK کے ڈائریکٹر جنرل ایلما ر واہر نے کہا ہے کہ اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے جانے چاہیے تھے، کیونکہ سپلائر کو اس سے پہلے توپ خانے کے گولے فروخت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
واضح رہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا جب یوکرینی افواج کو گولہ بارود کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ امریکی فوجی امداد میں تاخیر اور یورپی یونین کی جانب سے مارچ 2024 تک یوکرین کو 10 لاکھ گولے فراہم کرنے کا ہدف پورا نہ کر پانے کے باعث یہ صورتحال مزید سنگین ہوگئی تھی۔
ایستونیا کے وزیرِ اعظم کرسٹن میخال 3 ستمبر کو کابینہ کا اجلاس بلائیں گے، جس میں پیوکور کے استعفے اور نیشنل آڈٹ آفس کی تحقیقات کے نتائج پر غور کیا جائے گا۔
















