محکام آبنائے ہرمز میں ایک جنوبی کوریا کے زیرِ انتظام جہاز میں ہونے والے دھماکے اور آگ کے سبب کا پتا لگائیں گے — اس واقعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حملہ قرار دیا تھا۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "حادثے کا صحیح سبب تب پتہ چلے گا جب جہاز کو ٹو کیا جائے گا اور اس کے نقصان کا جائزہ لیا جائے گا۔"
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور آگ بجھا دی گئی ہے۔ یہ جہازٹو کیا جائے گا تاکہ نقصان کا جائزہ لیا جا سکے اور مرمت کی جا سکے۔
ایک ترجمان نے کہا کہ 35,000 ٹن وزنی اس عام کارگو جہاز پر 24 افراد کا عملہ سوار ہے۔
ترجمان نے کہا کہ آگ انجن روم میں لگی تھی اور نگرانی کیمرے کی فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے بجھا دیا گیا۔
برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ گروپ وینگارڈ نے کہا کہ حکام تحقیق کریں گے کہ آیا یہ نقصان کسی حملے، بحری بارودی سرنگ یا کسی دوسرے بیرونی اثرات سے ہوا ہے۔
واقعے کے ردِعمل میں، جنوبی کوریا کی وزارتِ بحری امور و ماہی گیری نے منگل کو کہا کہ اس نے علاقے میں موجود کورین جہازوں سے محفوظ علاقوں کی طرف منتقل ہونے کی درخواست کی ہے اور حکام جہاز ران فرموں اور پھنسے ہوئے جہازوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
جنوبی کوریا کی حکومت نے کہا ہے کہ ہرمز کے اطراف میں 2جنوبی کوریا کے 26 جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔
ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے لکھا ہے کہ ایران نے جہاز اور دیگر اہداف پر فائرنگ کی، امریکہ نےآبنائے ہرمز کو بحری نقل و حمل کے لیے کھولنے کی کوشش میں ایک آپریشن شروع کیا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ وقت ہو سکتا ہے کہ جنوبی کوریا ان کے نئے اقدام میں شامل ہو جو پھنسے ہوئے جہازوں کو اس آبی گزر گاہ سے گزارنے میں مدد فراہم کرے۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع اور صدارتی دفتر نے فوری طور پر ٹرمپ کی پوسٹ پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
جنوبی کوریا نے پہلے کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی طرف سے ایک اتحاد قائم کرتے ہوئے بحری جنگی جہازوں کی تعیناتی کے ذریعے آنا کو محفوظ بنانے کی تجویز پر احتیاط سے غور کرے گا، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ایسا اقدام قانون ساز ادارے کی منظوری کا محتاج ہوگا۔











