امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ جنگ بندی کی تجویز سے 'مطمئن' نہیں ہیں، اور انہوں نے کہا کہ تہران ایسی چیزیں مانگ رہا ہے جن پر وہ اتفاق نہیں کر سکتے۔
ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس سے روانہ ہونے سے پہلے صحافیوں سے کہا کہ 'انہیں درست معاہدہ کرنا ہوگا۔ اس وقت میں مطمئن نہیں ہوں'۔
جب پوچھا گیا کہ وہ ایران کی تجویز سے کیوں مطمئن نہیں ہیں، ٹرمپ نے کہا: 'وہ ایسی چیزیں مانگ رہے ہیں جن پر میں اتفاق نہیں ہو سکتا۔وہ سب ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ سب الجھے ہوئے ہیں۔'
انہوں نے کہا کہ مذاکرات پاکستان کی شرکت کے ساتھ جاری ہیں، اور واشنگٹن کے ساتھ کام کرنے پر اسلام آباد کے حکام کی تعریف کی، لیکن خبردار کیا کہ 'یہ سفر بہت طویل ہے۔'
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ترجیح بمباری کو دوبارہ شروع نہ کرنا ہے۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ 'انسانی نقطۂ نظر سے، میں پسند کروں گا کہ نہ کیا جائے'لیکن یہ آپشن ہے: کیا ہم وہاں زوردار انداز میں جا کر انہیں مکمل طور پر تباہ کر دیں، یا کچھ اور کرنا چاہیں گے؟”
توانائی اور جنگ کا ربط
ٹرمپ نے کہا کہ"انہوں نے پیش رفت کی ہے، مگر مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ وہاں تک پہنچیں گے۔" انہوں نے ایران کے رہنماؤں کے درمیان “شدید اختلاف” کی تصویر کشی کی۔
انہوں نے کہا'قیادت بہت منتشر ہے،یہ دو سے تین گروپوں پر مشتمل ہے، شاید چار۔ اور اس کے باوجود، وہ سب کوئی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، مگر وہ سب الجھے ہوئے ہیں۔'
ٹرمپ نے ممکنہ جنگی خاتمے کو عالمی توانائی منڈیوں سے بھی جوڑا، اور کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے قریب تیل کے متعدد ٹینکر پھنسے ہوئے ہیں، وہ جلد حرکت کر سکتے ہیں۔
"جب جنگ ختم ہوگی تو پیٹرول کی قیمتیں ان سطحوں سے بھی کم ہو جائیں گی جو پہلے تھیں۔"
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں تہران نے اسرائیل اور ان خلیجی ممالک کے خلاف جو امریکی اثاثوں کی میزبانی کر رہے ہیں جوابی کارروائیاں کیں، اور ہرمز بند ہو گئی۔
پاکستانی ثالثی کے ذریعے 8 اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اور اس کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات ہوئے، لیکن دیرپا معاہدے تک پہنچا نہیں گیا۔
بعد ازاں پاکستانی درخواست پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں توسیع کی، مگر نئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔












