سیاست
2 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: ایران معاہدہ 'بہت قریب' ہے، دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ کر سکتا ہوں
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم کو سونپنے پر اتفاق کیا ہے - جو کسی بھی معاہدے کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، لیکن انہوں نے اس طرح کے کسی معاہدے کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں۔
ٹرمپ: ایران معاہدہ 'بہت قریب' ہے، دستخط کے لیے پاکستان کا دورہ کر سکتا ہوں
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران افزودہ یورینیم حوالے کرنے پر متفق ہو گیا ہے، جو مذاکرات میں ایک کلیدی رکاوٹ تھی، تاہم انہوں نے اس مبینہ معاہدے کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔ / Reuters
3 گھنٹے قبل

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کسی امن معاہدہ کے "بہت قریب" ہیں اور وہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان جانے پر غور کریں گے۔

وائٹ ہاؤس میں جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ تہران نے اپنے افزودہ  شدہ یورینیم کے ذخائر کو کسی اور کے حوالے کرنے  پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ دونوں ممالک اسلام آباد میں مزید مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے  لاس ویگاس کےلیے رخت سفر باندھنے سے قبل کہا کہ ہم  ایران کے ساتھ کسی  معاہدے کے بہت قریب ہیں ۔"ہمیں یہ یقینی بنانا تھا کہ ایران ہر گز جوہری ہتھیاروں کا مالک نہ بنے۔ انہوں نے اس بات پر مکمل طور پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وہ تقریباً ہر چیز پر متفق ہیں۔"

جب  ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا وہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان جائیں گے؟ تو ٹرمپ نے کہا: "میں جا سکتا ہوں، ہاں۔ اگر معاہدہ اسلام آباد میں طے پایا،  میں جا سکتا ہوں۔"

پاکستان میں مذاکرات کا مزید ایک دور

امریکی رہنما نے پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور بااثر فوجی سربراہ عاصم منیر کی ایران کے ساتھ مذاکرات  میں  ثالثی کے کردار کو سراہا۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے پچھلے ہفتے کے آخر میں ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے ایک امریکی وفد کی قیادت کی لیکن وہ خالی ہاتھ واپس لوٹے تھے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ایک دوسرے دور کے بارے میں بات چیت جاری ہے جو ممکنہ طور پر دوبارہ پاکستان میں ہوگا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے افزودہ  شدہ یورینیم کا ذخیرہ سونپنے پر اتفاق کر لیا ہے — جو کسی بھی معاہدے کے لیے ایک اہم رکاوٹ رہا ہے — اگرچہ انہوں نے اس طرح کے کسی معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ"وہ ہمیں نیوکلیئر ڈسٹ واپس دینے پر رضا مند ہو گئے ہیں" یہ اُن کی افزودہ یورینیم کے لیے استعمال کردہ  اصطلاح ہے، امریکہ کا کہنا ہے یہ اس مواد کو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا  ہے۔