امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے تحت بحری جہاز آبنائے ہرمز سے بغیر کسی ٹیکس یا فیس کے گزریں گے۔
امریکہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تہران کو کوئی بھی معاشی فائدہ حاصل کرنے سے پہلے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہوگا۔
ایک اعلیٰ امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ان فوائد میں جنگ سے متاثرہ ملک ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کا ایک امدادی فنڈ بھی شامل ہو سکتا ہے تاہم، اس فنڈ کا جاری ہونا مکمل طور پر ایران کی "کارکردگی" سے مشروط ہوگا۔
اہلکاروں کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز اس ابتدائی معاہدے پر ڈیجیٹل طور پر دستخط کیے۔
ایک امریکی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ صدر ٹرمپ اس پر خود دستخط کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ اس امن عمل کے لیے اپنی سنجیدگی دکھا سکیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے سی این این کو بتایا کہ یہ معاہدہ تقریباً ڈیڑھ صفحے کا ہے، اس لیے یہ ایک بہت ہی عمومی اور بنیادی دستاویز ہے۔" وینس اس ہفتے مذاکرات کی قیادت کریں گے اور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والی دستخطوں کی تقریب میں شرکت کریں گے۔
اس دستخط کے ساتھ ہی 60 دنوں کا وقت شروع ہو جائے گا، جس کے دوران ایران اور امریکہ ایک مکمل امن معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ ہم جوہری پروگرام کے مذاکرات کو سب سے اوپر رکھنا چاہتے ہیں لیکن تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی معیشت پر اثرات کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا راستہ کھولنا سب سے پہلی ترجیح ہے۔
وینس نے سی این بی سی کو بتایا کہ ایران کے ساتھ یہ طے پایا ہے کہ یہ بحری راستہ طویل مدت کے لیے بالکل مفت کھولا جائے گا، اور تکنیکی مذاکرات میں اسی بات کو حتمی شکل دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کہا کہ یہ اہم راستہ جمعہ سے مکمل طور پر کھل جائے گا، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی سمندری بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا کام جاری ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ بحری جہازوں کی آمد و رفت اگلے چند ہفتوں میں جنگ سے پہلے کے معمول پر واپس آ جانی چاہیےلیکن ابھی سے ٹریفک میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دوسری طرف، ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا کہ اس معاہدے کے تحت وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹیکس یا "ٹول" نہیں لگائے گا بلکہ صرف "بحری خدمات کی فیس" وصول کرے گا۔

















