ایرانی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ یاداشتِ مفاہمت کا حتمی مسودہ، تہران جوہری پروگرام ، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھُلنے اور تیل پر امریکی چھُوٹوں سمیت، متعدد مسائل کا احاطہ کرتا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو فراہم کردہ معلومات میں کہا ہے کہ دونوں فریقین کی طرف سے مسودے کی منظوری کی صورت میں 60 روزہ مدّت میں حتمی معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔
مسودہ درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:
آبنائے ہرمز
ایران فوری طور پر اور تمام تجارتی جہازوں کے لئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گااور امریکہ ایرانی بندرگاہوں سے بحری ناکہ بندی اٹھا لے گا۔
مالی اقدامات
امریکہ اس بات پر رضامندی دے گا کہ حتمی معاہدہ طے پانے تک ایران پر کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کی جائیں گی۔
واشنگٹن مخصوص مدّت کے لیے ایران کو تیل کی پابندیوں سے چھُوٹ دے گا جس سے تہران کو تیل بیچنے اور آمدن وصول کرنے کی مہلت ملے گی۔
امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 25 ارب ڈالر جاری کرنے پر بھی راضی ہوگا جس میں براہِ راست نقد منتقلیاں، علاقائی ممالک کے درمیان تعاون اور مالی کریڈٹ لائنیں شامل ہوں گی۔
جوہری امور
تہران جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے اور نہ ہی حاصل کرنے پر رضامند ہو جائے گا ۔
جب تک حتمی معاہدہ طے نہیں پاتاایران، یورینیم کی افزودگی بند رکھنے اور جوہری تنصیبات کی توسیع سے گریز کرنے سمیت موجودہ جوہری صورتحال پر برقرار رہے گا ۔
امریکہ تہران کے، ملک میں موجود اور حد سے زیادہ، افزودہ یورینیم ذخائر کو ملکی حدود کے اندر پتلا کرنے کو بھی قبول کرے گا۔ اس عمل کے طریقہ کار پر 60 روزہ مدّت میں بات چیت کی جائے گی۔









